ترکی کے صدر سرکاری دورے پر تہران پہنچ گئے
ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن بدھ کے روز ایران کے سرکاری دورے پر تہران پہنچ گئے۔ وہ تہران میں ایرانی صدر حسن روحانی اور دیگر سینئر ذمے داران سے ملاقات کریں گے۔
ایردوآن کے ایک روزہ دورے کا مقصد عراق سے کردستان کی علاحدگی کے حوالے سے کرائے جانے والے ریفرینڈم پر ممکنہ مشترکہ جوابی اقدام کو زیر بحث لانا ہے۔ ترکی اور ایران دونوں کی جانب سے مذکورہ ریفرینڈم کی شدید مخالفت کی جاتی رہی ہے۔
ترکی اور ایران کو قوی اندیشہ ہے کہ دونوں ملکوں کے کرد شہریوں میں بھی علاحدگی پسندی کا شعلہ بھڑک سکتا ہے جس پر انقرہ اور تہران نے دھمکی دی ہے کہ وہ عراقی کردستان پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے سلسلے میں بغداد کے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ترکی اور عراق نے کردستان کی سرحد پر عراقی افواج کے ساتھ مشترکہ مشقوں کا بھی آغاز کر دیا ہے۔
ایردوآن اپنے دورے میں ایران کے اعلی رہ نما علی خامنہ ای سے بھی ملاقات کریں گے۔
تہران کے دورے میں ایردوآن کے ہمراہ وزیر خارجہ مولود چاوش اوگلو اور "جسٹس اینڈ پیس" پارٹی کے نائب سربراہ کے علاوہ ترکی کے معیشت ، توانائی و قدرتی وسائل ، تجارت ، داخلہ اور ثقافت و سیاحت کے وزراء بھی ہیں۔
-
ترکی اور ایران نے عراقی کردستان کو سخت پابندیوں سے خبردار کر دیا
ایران کے وزیر دفاع امیر خاتمی نے زور دے کر کہا ہے کہ ایران اور ترکی خطے میں کسی ...
مشرق وسطی -
کردستان کے خلاف ترکی، عراق، ایران کی مشترکہ مہم جوئی کا امکان
ترکی عراقی فوج کی معاونت کے لیے 12 ہزار فوجی بھیجے گا
بين الاقوامى -
یورپ ترکی پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے: ایردوآن
ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے زور دے کر کہا ہے کہ ان کے ملک کو یورپی یونین ...
بين الاقوامى