.

عراقی فوج نے کرکوک کے جنوب میں کردستان کا پرچم اُتار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فوجی ذریعے کے مطابق عراقی فوج نے کرکوک صوبے کے جنوب میں کردستان کا پرچم ہٹا کر اس کی جگہ عراقی پرچم لہرا دیا ہے۔

مذکورہ ذریعے نے ایک اخباری بیان میں بتایا کہ عراقی فوج کردستان کی حدود سے باہر پیشمرگہ فورسز کے زیر کنٹرول علاقوں میں از سر نو تعیناتی کے منصوبے کے سلسلے میں اس علاقے میں داخل ہوئی۔

شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے نمایاں ترین گروپ بدر تنظیم کے کمانڈر نے اپنے بیان میں پیشمرگہ فورسز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اُن علاقوں سے نکل جائے جہاں پیشمرگہ نے عراقی فوج کے استثنائی حالات کے سبب قبضہ کر لیا تھا۔

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کا کہنا ہے کہ امریکا عراقی اور کُرد حکام کے درمیان کرکوک کے حوالے سے کشیدگی اور تناؤ کا مسلسل جائزہ لے رہا ہے اور اس کو بڑھنے سے روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

میٹس نے عراقی حکام پر زور دیا کہ وہ داعش تنظیم کے خلاف لڑائی پر توجہ مرکوز رکھیں۔ ان کے مطابق عراقی اور کُرد فورسز کے درمیان کسی بھی نوعیت کی لڑائی سے داعش کے جنگجوؤں کو خود کو منظم کرنے کا موقع مل جائے گا۔

اس سے قبل جمعے کے روز سکیورٹی ذرائع نے بتایا تھا کہ پیشمرگہ فورسز نے کرکوک کے گرد اپنی دفاعی لائن کو دو کلو میٹر پیچھے بُلا لیا جس کا مقصد نزدیک موجود عراقی فورسز کے ساتھ کسی بھی تصادم کے امکان کو کم کرنا تھا۔ تاہم پیشمرگہ فورسز کے کمانڈر جنرل سیروان البارزانی نے باور کرایا کہ وہ کرکوک سے نہیں نکلیں گے۔ "العربيہ" نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ "کرکوک میں ہماری فورسز انتہائی چوکنا ہیں"۔