.

کردستان کے ساتھ گزر گاہوں کی بندش، ایرانی تردید اور کُرد ذمّے دار کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کی جانب سے "نامعلوم ذریعے" کے حوالے سے یہ خبر دیے جانے کے بعد کہ ایران نے عراقی کردستان کے ساتھ اپنی تمام سرحدی گزر گاہوں کو بند کر دیا ہے ، اس حوالے سے متضاد رپورٹیں سامنے آ رہی ہیں۔

کُرد ذمّے دار نے گزر گاہوں کی بندش کی تصدیق کی تاہم ایرانی وزارت خارجہ نے اس کی تردید کی ہے۔ ایرانی طلبہ کی کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی کا کہنا ہے کہ "جیسا کہ ہم نے پہلے اعلان کیا کہ ہم نے کردستان کے لیے اپنی فضائی حدود کو عراق کی مرکزی حکومت کی درخواست پر بند کیا تھا۔ مرے علم کے مطابق اس علاقے میں کوئی نئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے"۔

کُرد ذمّے دار کی تصدیق

ادھر ایک کُرد ذمّے دار نے بتایا ہے کہ ایران نے اتوار کے روز تین سرحدی گزر گاہوں کو بند کر دیا ہے جہاں سے عراقی کردستان اور ایران کے درمیان افراد اور سامان کو گزرنے کی اجازت تھی۔

باشماخ گزرگاہ کے کسٹم ڈائریکٹر شاخوان ابوبکر نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ "ایران نے اتوار کی صبح سے کردستان کے ساتھ اپنی تین سرحدی گزرگاہوں کی بندش کر رکھی ہے۔ یہ گزر گاہیں حاجی عمران ، پرویز خان اور باشماخ ہیں"۔

کرد سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف ایک باشماخ کی گزر گاہ کے راستے عراقی کردستان میں تقریبا 20 کروڑ ڈالر مالیت کا سامان داخل ہوتا ہے۔