.

ایران : کام کرنے والے 90% بچّے جنسی ہراسیت اور زیادتی کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے دارالحکومت تہران میں سوشل ورک آرگنائزیشن کے سکریٹری جنرل رضا قدیمی کے مطابق ایران میں کام کرنے والے 90% بچوں کو جنسی ہراسیت اور زیادتی کا سامنا ہے۔

پیر کے روز ایرانی اخبار "شہروند" میں شائع ہونے والی گفتگو میں قدیمی نے بتایا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران سوشل ویلفیئر کے ارکان نے 400 مزدور بچوں سے بات چیت کی جس کے دوران انکشاف ہوا کہ ان میں 90% جنسی ہراسیت اور زیادتی کا نشانہ بن چکے تھے۔

مذکورہ ایرانی ذمے دار نے بتایا کہ "ہم سڑکوں پر سے ان بچوں کو چائلڈ ویلفیئر سینٹرز لے کر جاتے ہیں جہاں بات چیت پر معلوم ہوتا ہے کہ انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے"۔

ایران کے بعض اصلاح پسند اور حزب اختلاف کے اخبارات نے اس خبر کو "دھچکا پہنچانے والی اور شرمندگی کا باعث" قرار دیا۔ اس لیے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ملک میں بچوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ۔

ایرانی درالحکومت میں سوشل ورک آرگنائزیشن کے سکریٹری جنرل کے مطابق ان بچوں میں 75% افغان ، پاکستانی اور بنگلہ دیشی پناہ گزین بچے ہیں جب کہ 25% کا تعلق ایران سے ہے۔

ملک میں غریب اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے خاندان جن کی ایران میں ایک بڑی تعداد ہے اپنے بچوں کو کام کرانے اور بھیک منگوانے پر مجبور ہیں تا کہ زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔ ان میں کھانا پینا اور گھروں کے کرایوں کی ادائیگی شامل ہے۔

بعض رپورٹوں میں ایرانی دارالحکومت تہران میں غریب خاندانوں اور لاچار ماؤں کی جانب سے اپنے بچوں کی فروخت کے رجحان میں اضافے کا ذکر کیا گیا ہے جب کہ ایرانی حکام کی طرف سے اس رجحان کی حوصلہ شکنی کے لیے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔