حوثی ملیشیا بچوں کی بھرتی کے جُرم پر پردہ ڈالنے کے لیے کوشاں !
یمن میں باغی حوثی ملیشیا کے سربراہ عبدالملک الحوثی کی جانب سے یہ ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ لڑائی کے محاذوں پر جھونکے جانے کے لیے بھرتی کیے گئے بچوں کی لاشوں کی تصاویر شائع نہ کی جائیں۔ یہ پیش رفت باغی ملیشیا کے ہاتھوں ہزاروں بچوں کی بھرتی پر عوامی غم وغصّے میں شدید اضافے کے بعد سامنے آئی ہے۔
اس سلسلے میں حوثیوں کی نام نہاد سپریم انقلابی کونسل کے سربراہ محمد الحوثی کی دستخط شدہ ایک دستاویز اِفشا ہوئی ہے جس میں مقتول حوثیوں کی تصاویر شائع کرنے والے ادارے کو ہدایت دی گئی ہے کہ باغیوں کے سرغنے کی ہدایت کے مطابق 15 برس سے کم عمر مقتولین کی تصاویر ہر گز شائع نہ کی جائیں۔
یمن میں آئینی حکومت کے سرکاری اندازوں کے مطابق حوثی ملیشیا اب تک 20 ہزار سے زیادہ بچوں کو بھرتی کر چکی ہے جن کو لڑائی کے محاذوں میں جھونکا گیا۔ یمنی وزیر خارجہ عبدالملک المخلافی پہلے ہی یہ بتا چکے ہیں کہ حوثیوں کی جانب سے بھرتی کیے جانے والوں میں 70% بچے ہیں۔
یمن میں انسانی حقوق کی تنظیمیوں کے مطابق اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیموں اور بین الاقوامی تنظیموں کا اس سلسلے میں کردار انتہائی کمزور اور باعث شرم ہے اور بچوں کی بھرتی کے حوالے سے حوثیوں کے خلاف عالمی قوانین کے تحت کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔
حوثیوں کے سربراہ کی جانب سے سامنے آنے والی ہدایت اس بات کے صریح اعتراف ہے کہ انہوں نے مذہب اور ضمیر کو بالائے طاق رکھ کر بچوں کو جنگ کی بھینٹ چڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔