’اسد رجیم اور شامی اپوزیشن میں براہ راست مذاکرات کا امکان نہیں‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شام میں امن مساعی کے لیے سرگرم اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسیٹفن دی میستورا نے بتایا ہے کہ شامی بحران پر بات چیت کے لیے بشارالاسد کی حکومت کا ایک وفد آج بدھ کو جنیوا پہنچ رہا ہے۔

دوسری جانب شامی حکومت کےایک ذریعے کا کہنا ہے کہ جنیوا میں ہونے والے اجلاس میں اپوزیشن اور حکومتی نمائندوں کے درمیان براہ راست مذاکرات نہیں ہوں گے۔

جنیوا میں شامی اپوزیشن کے نمائندوں اور اقوام متحدہ کے اہلکاروں کے درمیان اہم ملاقات ہوئی ہے تاہم اقوام متحدہ کی طرف سے واضح کیا گیا ہے کہ مذاکرات میں کسی فریق پر کوئی پیشگی شرط عاید نہیں کی جائے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جنیوا میں ہونے والے اجلاس میں شامی حکومت اور اپوزیشن کے وفود کے درمیان الگ الگ بات چیت کی جائے گی۔ یو این مندوبین شامی حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں سے الگ الگ ملاقات کریں گے۔ بعد ازاں امریکی معاون وزیر خارجہ ڈیوڈ ساٹر فیلڈ بھی اپوزیشن کے نمائندوں سے ملیں گے۔ اس کےبعد سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان بھی شام میں امن عمل آگے بڑھانے کے لیے اسد رجیم اور اپوزیشن کے رہ نماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔

ادھر شامی حکومت کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے مندوب دی میستورا نے حکومت کو یقین دلایا ہے کہ جینوا میں ہونے والے اجلاس میں شامی اپوزیشن کے ساتھ براہ راست ملاقات پر زور نہیں دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ شام میں سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے بشارالاسد کو اقتدارسے الگ کرنے کی کسی شرط پر بھی بات نہیں کی جائے گی اور نہ ہی شامی اپوزیشن کے سعودی عرب کے شہر الریاض میں ہونےوالے اجلاس اور اس کے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے شامی حکومت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں