.

حیران کُن موقف : ایران نے تھائی مرد کوچ کو حجاب کا پابند کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی دارالحکومت تہران میں حکام نے "کبڈّی" کے ایک کوچ کو حجاب (سر پر اسکارف) پہننے پر مجبور کر دیا جس کے بعد وہ اپنی ٹیم کی نگرانی کے لیے کھیل کے میدان میں داخل ہو سکا۔ حکام کی جانب سے بطور حیلہ یہ موقف پیش کیا گیا کہ ایران کی جانب سے جس چیمپین شپ کی میزبانی کی جا رہی ہے وہ صرف خواتین کے لیے ہے۔ دنیا بھر میں یہ اپنی نوعیت کا انوکھا اور نرالا واقعہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایران کے شہر جرجان میں ہونے والی کبڈی چیمپین شپ کے منتظمین نے تھائی لینڈ کی ٹیم کے کوچ سیمبراش وانشو کو حجاب کے بغیر کھیل کے میدان میں داخل ہونے سے روک دیا۔ یہ بات مذکورہ کوچ نے اخباری بیانات میں بتائی۔

سوشل میڈیا پر تھائی کوچ کی تصاویر گردش میں آئی ہیں جن میں وہ حجاب پہنے ہوئے نظر آ رہا ہے۔ تصاویر نے ایران اور اس کے بیرون کھیل کے حلقوں میں وسیع توجہ حاصل کی۔ بہت سے ایرانیوں کی جانب سے اس اقدام کو "شرم ناک" قرار دیا گیا ہے۔

ادھر چیمپین شپ کے مرکزی منتظم محمد رضا مقصودلو نے اس امر کی تردید کی ہے کہ حکام نے سیمبراش کو حجاب پہننے پر مجبور کیا۔ مقصودلو کے مطابق درحقیقت تھائی کوچ نے خود سے حجاب پہنا تھا اور اس کی شناخت ہو جانے کے بعد کوچ کو کھیل کے میدان سے باہر بھیج دیا گیا۔

البتہ تھائی کوچ نے اس موقف کی یکسر تردید کی ہے۔ امریکی ریڈیو "فردا" سے گفتگو کرتے ہوئے کوچ سیمبراش نے باور کرایا کہ وہ ایرانی حکام کے مطالبے پر دو مرتبہ کھیل کے میدان میں دو مختلف رنگوں کے حجاب پہن کر داخل ہوا۔ سوشل میڈیا پر تھائی کوچ کی جاری تصاویر اس موقف کی تصدیق کرتی ہیں۔ تھائی کوچ کے مطابق اس طرح کے مقابلوں میں کوچ کی موجودگی انتہائی اہم ہوتی ہے لہذا میں نے ایرانی حکام سے کھیل کے میدان میں داخلے کی درخواست کی۔ اس پر انہوں نے حجاب کی شرط رکھی اور میں نے اس کو پورا کر دیا۔

دوسری جانب ایرانی طلبہ کی خبر رساں ایجنسی اِسنا نے انکشاف کیا ہے کہ چیمپین شپ کے سکیورٹی پہرے داروں نے کھیل کے میدان میں داخلے ہونے کے لیے تھائی کوچ کو حجاب پہننے پر مجبور کیا۔