ادلب میں بچوں کا قتل عام، روس کا ذمہ داری قبول کرنے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

روسی وزارت دفاع نے شام کے شورش زدہ شہر ادلب میں نہتے شہریوں پر بمباری اور اس کے نتیجے میں سات بچوں سمیت انیس افراد کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق روسی وزارت دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ ادلب کے نواحی علاقے ’معرشورین‘ میں نامعلوم طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں 7 بچوں سمیت 19 عام شہریوں کے قتل عام کی ذمہ داری ماسکو کے سر تھوپی جا رہی ہے۔ روس کے کسی جنگی طیارے نے ان دنوں ادلب میں کسی مقام پر بمباری نہیں کی ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز شمال مغربی شام کی ادلب گورنری میں معرشورین کے مقام پر نامعلوم جنگی طیاروں نے وحشیانہ بمباری کی تھی جس کے نتیجے میں سات کم سن بچوں سمیت انیس افراد مارے گئے تھے۔

انسانی حقوق کی صورت حال پرنظر رکھنے والے ادارے ’آبزرویٹری‘ کے مطابق معرشورین کا علاقہ جنگ بندی زون میں شامل ہے۔ مگر اس کے باوجود وہاں پر نہتے شہریوں کا قتل عام کئی طرح کے سوالات کو جنم دے ہا ہے۔

’اے ایف پی‘ کے فوٹو گرافر تازہ بمباری سے متاثرہ علاقوں کی تصاویر حاصل کی ہیں۔ ان تصاویر میں رہائشی عمارتوں کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل دکھایا گیا ہے۔ جو مکانات باقی بچ گئے ہیں ان کی دیواریں انسانی خون سے رنگین دکھائی دیتی ہیں۔

انسانی حقوق کے آبزرور رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ معرشورین ٹاؤن پر جنگی طیاروں جن میں کے بارے میں خیال تھا کہ وہ روسی فوج کے جنگی جہاز ہیں نے ’ھیہ تحریر شام‘ [سابقہ النصرہ] کے زیرکنٹرول علاقے میں بمباری کی جس کے نتیجے میں سات بچوں سمیت 19افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔ بمباری سے کئی مکانات زمین بوس ہوگئے۔ خدشہ ہے کہ ملبے تلے مزید افراد بھی ہوسکتے ہیں۔ مقتولین میں ایک ہی خاندان کے13 افراد بھی شامل ہیں۔ بمباری کے نتیجے میں 25 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں سے بعض کی حالت تشویشناک بیان کی جاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں