.

بیت المقدس مشرق وسطیٰ میں جنگ اور امن کی کلید ہے: فلسطین

اقوام متحدہ میں القدس سے متعلق قرارداد امریکا سے دشمنی نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ جنرل اسمبلی میں بیت المقدس کے تحفظ اور اسے اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت قرار دینے کے اقدامات روکنے کے لیے قرارداد پر رائے شماری امریکا کے ساتھ دشمنی نہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے فورم سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی وزیرخارجہ ریاض المالکی نے کہا کہ فلسطینی اپنے حق خود ارادیت کے حصول کے لیے جدو جہد کررہے ہیں۔ بیت المقدس آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ القدس مشرق وسطیٰ میں جنگ اور امن کی کنجی ہے۔

ریاض المالکی کا کہنا تھا کہ عالمی برادری نے جنرل اسمبلی میں فلسطین اور القدس کے حق میں قرارداد پر رائے دی ہے۔ اس سے قبل دنیا بھر کے عوام اور حکومتیں القدس کے بارے میں فلسطینیوں کے موقف کی تائید کرچکے ہیں۔

انہوں نے عرب ممالک، اسلامی تعاون تنظیم ’او آئی سی‘ اور غیر جانب دار گروپ کی طرف سے اقوام متحدہ کا خصوصی سیشن منعقد کرانے کا مطالبہ کرنا فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی عمدہ مثال ہے۔ ہم یو این کا خصوصی اجلاس منعقد کرنے پر ان گروپوں کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے سلامتی کونسل میں القدس سے متعلق قرارداد کو امریکا کی طرف سے ویٹو کیے جانے کے بعد مناسب اقدام کیا ہے۔

فلسطینی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیت المقدس کے بارے میں فیصلہ مذہبی جذبات کو بھڑکانے اور اسرائیل کی خدمت کے مترادف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ القدس کے بارے میں بہت سے مذاہب من گھڑت کہانیوں پر یقین رکھتے ہیں جب کہ عالمی اجماع القدس کے تاریخی مقدس اسٹیٹس کو تسلیم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے القدس کے حوالے سے عالمی قوانین کا احترام کرنے کے مطالبات نظر انداز کیے اور اپنا فیصلہ تبدیل کرنے کا موقع ضائع کر دیا۔