.

ایران : گرفتار مظاہرین کی تعداد 3700 ، دورانِ حراست 3 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی ویب سائٹوں کے مطابق ملک میں جاری حالیہ احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والے مظاہرین میں سے 3 افراد حکام کی حراست میں تشدّد کے باعث ہلاک ہو گئے۔ ادھر ایرانی رکن پارلیمنٹ محمود صادقی نے بتایا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گرفتار شدگان کی مجموعی تعداد 3700 کے قریب ہو چکی ہے۔

سبز تحریک کے نظربند رہنما مہدی کروبی کی مقرّب ویب سائٹ "سحام نيوز" نے تصدیق کی ہے کہ تہران کی ایوین جیل میں سينا قنبری، اراک کی مرکزی جیل میں وحید حیدری اور دزفول کی جیل میں محسن عادلی ... یہ تینوں افراد جیل میں اپنی خفیہ روپوشی کے دوران فوت ہو گئے جب کہ حکام کا دعوی ہے کہ انہوں نے خودکشی کی ہے۔

دوسری جانب تہران میں خاتون وکیل نسرین ستودہ نے باور کرایا ہے کہ تینوں نوجوانوں نے خود کشی نہیں کی بلکہ انہیں قتل کیا گیا ہے۔

اصلاح پسند گروپ سے تعلق رکھنے والے ایرانی رکن پارلیمنٹ محمود صادقی کا کہنا ہے کہ گرفتار شدگان کے حوالے سے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک بھر میں مختلف سکیورٹی اداروں کے ہاتھوں حراست میں لیے جانے والے افراد کی تعداد 3700 کے قریب ہے۔

سال 2009 کے قتلِ عام کا اعادہ

انسانی حقوق سے متعلق ایرانی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی جیلوں میں ایک بار پھر اُسی نوعیت کا قتل عام دیکھنے میں آ سکتا ہے جو 2009 میں سبز تحریک کے بعد "کہریزک" کی جیل میں ہوا تھا۔ اس دوران مظاہرین کو زیرِ تشدد ہلاک کر دیا گیا تھا اور دیگر کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

نومبر 2017 میں تہران کی عدالت نے ایرانی دارالحکومت کی عدالتوں کے سابق اٹارجی جنرل بیرسٹر سعید مرتضوی کو صرف دو برس قیل کی سزا سنائی۔ مرتضوی پر الزام تھا کہ وہ 2009 میں عوامی تحریک کے دوران گرفتار دو افراد کی کہریزک جیل میں تشدد کے باعث ہلاکت میں ملوث تھے۔ مرتضوی سابق صدر محمود احمدی نژاد کے قریبی معاونین میں سے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ سمیت انسانی حقوق کی تنظیمیں اُن پر الزام عائد کرتی ہیں کہ وہ ایران میں انسانی حقوق کی سب سے زیادہ پامالی کرنے والی شخصیات میں سے ہیں۔ امریکا بھی مرتضوی اور دیگر عہدے داروں کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ذمّے دار ٹھہراتا ہے۔

دھرنے اور ہڑتالیں

حالیہ احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والے 102 طلبہ اور دیگر سیکڑوں زیر حراست افراد کے خاندانوں کی جانب سے گزشتہ چار روز سے تہران کی ایوین جیل اور دیگر قید خانوں کے سامنے دھرنا جاری ہے۔

گزشتہ دو روز کے دوران ملک کے مختلف شہروں کے کئی بازاروں میں عام ہڑتال جاری ہے۔ منگل کے روز بھی 40 سے زیادہ شہروں میں عوام کو احتجاجی مظاہروں کی کال دی گئی۔

احتجاج کو بیرونی سازش کا رنگ دینے کی کوشش

اس سے قبل ایرانی صدر حسن روحانی نے پیر کے روز اپنے خطاب میں سخت گیر حلقوں کو حالیہ احتجاجی مظاہروں کے بھڑکانے کا ذمّے دار ٹھہرایا۔

ایرانی نظام کے ذمّے داران امریکا کے علاوہ مختلف مغربی اور عرب ممالک پر الزام عائد کر رہے ہیں کہ حالیہ احتجاجی مظاہروں کے پیچھے اُن کا ہاتھ ہے۔

اگرچہ ایرانی رکن پارلیمنٹ محمود صادقی یہ انکشاف کر چکے ہیں کہ "سکیورٹی ذمے داران کا کہنا ہے کہ حالیہ شورشوں میں بیرونی قوتوں کا کوئی کردار نہیں ہے"۔

سزائے موت کی دھمکی

ادھر ایرانی عدلیہ کے نائب سربراہ نے دھمکی دی ہے کہ احتجاجی مظاہروں میں گرفتار ہونے والوں کو سخت ترین سزا دی جائے گی۔ انسانی حقوق کی ایرانی تنظیم کے مطباق اس دھمکی کا مطلب ہوا کہ ان میں سے بعض کے خلاف سزائے موت پر بھی عمل کیا جائے گا۔

مذکورہ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ محض آزادیِ اظہار کا حق استعمال کرنے پر ان زیر حراست افراد کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ ہر گز نہیں سنایا جانا چاہیّے۔ تنظیم کے مطابق اس بات کی بھی تشویش ہے کہ یہ لوگ منصفانہ عدالتی کارروائی سے محروم رہیں گے اور انہیں حراست اور پوچھ گچھ کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا۔