.

’خفیہ دستاویزات‘ البغدادی اور اس کے بھیڑیوں کے لیے موت کا جال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں شدت پسند گروپ کی خود ساختہ خلافت کے پایہ تخت’الرقہ‘ سے ملنے والی ’غیرمعمولی دستاویزات‘ تحریری، صوتی اور ویڈیو ریکارڈنگ کے بھاری ذخیرے کو داعشی خلیفہ ابو بکرالبغدادی اور اس کے ساتھیوں کے لیے پیغام موت قرار دیا جا رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق داعش کے خلاف سرگرم ایک امریکی جنرل ’جیمز گریڈ نے الرقہ سے حاصل ہونے والی دستاویزی معلومات کو ’داعش کا معلوماتی خزانہ‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی سال تک الرقہ کو مرکز بنانے والی داعش نے وہاں سے بھاگتے وقت اپنے بارے میں بہت کچھ وہیں چھوڑ دیاتھا۔ وہ تمام معلومات عالمی فوجی اتحاد کےہاتھ آئی ہیں اور ان کی روشنی میں البغدادی اور اس کے ساتھی درندوں کی تلاش جاری رہے گی۔

’یو ایس اے ٹوڈے‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جنرل جیمز گریڈ نے کہا کہ الرقہ میں داعش کے خلاف آپریشن کے دوران معلومات کا ایک خزانہ ان کے ہاتھ آیا ہے۔وہاں سے ملنے والی دستاویزات میں تحریری مواد، آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ بھی شامل ہیں۔ یہ تمام دستاویزات الرقہ میں داعش کے فرار کے بعد سے ملیں۔ ان کی روشنی میں البغدادی اور داعش کی صف اول کی کمانڈ تک رسائی میں مدد ملے گی۔

امریکی جنرل نے الرقہ سے ملنے والی دستاویزات کو بیش قیمت خزانہ قرار دیا اور کہا کہ ان دستاویزات میں داعش کے ہر کارندے کے بارے میں تفصیلی معلومات شامل ہیں۔

ان دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ داعش کاری ضرب کھانے کے بعد بھی اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ حالانکہ سنہ 2014ء کو عراق اور شام کے جن علاقوں پر داعش نے قبضہ کیا تھا ان سے داعشیوں کونکال باہر کیا گیا ہے۔

بنیادی ڈھانچہ اور داعش کے قوانین

بین الاقوامی فوجی اتحاد کو الرقہ سے ملنے والی دستاویزات میں شاید سب سے اہم داعش کے ڈھانچے اور اس کے قوانین کے بارے میں معلومات شامل ہیں۔ ان دستاویزات سےپتا چلتا ہے کہ داعش نے ایک باقاعدہ فوج تشکیل دی تھی اور اس فوج نے ڈرامائی انداز میں دو ملکوں کے وسیع رقبے پر چند ماہ کے اندر قبضہ کرلیا تھا۔ اب یہ فوج زیر زمین گوریلا گروپوں کی شکل میں تبدیل ہوگئی ہے۔

الرقہ سے داعش کے دفاترسے ملنے والے کمپیوٹر بھی شامل ہیں جن میں سیکڑوں ٹیرا بائیٹس ڈیٹا موجود ہے۔ ان معلومات میں داعش کے بنیادی ڈھانچے اور غیرملکی دہشت گردوں سے نمٹنے کے بارے میں مدد مل سکتی ہے۔

جنرل جیمز گریڈ کا کہنا ہے کہ الرقہ سےملنے والی معلومات کی روشنی میں دنیا بھر میں پھیلے داعش کے نیٹ ورک کا سراغ لگانے کے ساتھ تنظیم کے اہم کمانڈروں کی نشاندہی اور انہیں ٹھکانے لگانے میں مدد مل سکتی ہے۔ ان دستاویزات میں داعش کی تیل کی لوٹ مار، بنکوں اور دیگر مالیاتی مراکز میں کی گئی لوٹ مار کی تفصیلات بھی بیان کی گئی ہیں۔ بالخصوص ان دستاویزات کی روشنی میں البغدادی کے خفیہ ٹھکانے کی معلومات مل سکتی ہیں۔