.

امریکی صدر ٹرمپ کی امن پیش کش ’’صدی کا تھپڑ‘‘ ہے: محمود عباس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی صدر محمود عباس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امن کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے انھیں ’’صدی کا تھپڑ ‘‘قرار دے دیا ہے۔

انھوں نے مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں فلسطینی قیادت کے اجلاس سے افتتاحی خطاب میں کہا ہے کہ اسرائیل نے اپنے اقدامات سے خود ہی 1990ء کے عشرے میں طے شدہ تاریخی اوسلو معاہدے کو ختم کردیا ہے۔انھوں نے اسرائیل میں متعیّن امریکی سفیر ڈیوڈ فرائیڈمین اور اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نِکی ہیلی کو ایک ’’ توہین ‘‘ قرار دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہم ٹرمپ کو ’’ نو ‘‘ کہتے ہیں اور ہم آپ کا منصوبہ تسلیم نہیں کریں گے‘‘۔ان کا اشارہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 6 دسمبر کو القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور وہاں تل ابیب سے امریکی سفارت خانہ منتقل کرنے کے فیصلے کی جانب تھا۔

فلسطینی صدر نے کہا :’’ صدی کی ڈیل کی پیش کش دراصل صدی کا تھپڑ ہے اور ہم اس کو قبول نہیں کریں گے‘‘۔ وہ امریکی صدر کے اس بیان پر تبصرہ کررہے تھے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ان کا مقصد اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان قیام امن کے لیے کسی ڈیل تک پہنچنا ہے۔

محمود عباس نے فلسطینی جماعتوں کی قیادت کے دوروزہ اجلاس میں اتوار کو مسلسل کوئی دو گھنٹے تقریر کی ہے۔ یہ اجلاس آج سوموار کو بھی جاری ہے۔ اس میں صدر ٹرمپ کے القدس ( یروشلیم ) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان پر تفصیلی غور کیا جارہا ہے اور پھر اس کی بنیاد پر فلسطینی قیادت کوئی فیصلہ کرے گی۔

فلسطینیوں نے امریکی صدر کے فیصلے کے خلاف سخت ردعمل کا ا ظہار کیا تھا اور صدر عباس قبل ازیں یہ کہہ چکے ہیں کہ صدر ٹرمپ کے اقدام کے بعد امریکا اب مشرقِ وسطیٰ امن عمل میں کوئی کردار ادا نہیں کرسکتا۔

انھوں نے اپنی اس تقریر میں بھی کہا ہے کہ فلسطینی اب بین الاقوامی امن عمل کے آغاز کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اس میں امریکا کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے ۔انھوں نے کہا کہ رام اللہ میں ہونے والے اس اجلاس میں فلسطینی قیادت کو آگے بڑھنے کے لیے ضرور کوئی فیصلہ کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ اب کوئی اوسلو نہیں رہا ہے کیونکہ اسرائیل نے خود ہی اوسلو معاہدے کو ختم کردیا ہے‘‘۔ وہ اوسلو معاہدے کا حوالہ دے رہے تھے جس کے تحت فلسطینی علاقوں میں محدود اختیار کی حامل فلسطینی اتھارٹی قائم کی گئی تھی اور اس میں تنازع کے حتمی حل کا ایک لائحہ عمل بھی تجویز کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ اسلامی تحریک مزاحمت ( حماس ) فلسطینی قیادت کے اس اجلاس میں شریک نہیں ہے۔حماس نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’ ہم نے رام اللہ میں فلسطینیوں کی مرکزی کونسل کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ جن حالات میں یہ اجلاس منعقد ہوگا ،ان میں کونسل کوئی جامع اور ذمے دارانہ سیاسی جائزہ نہیں لے سکے گی اور وہ ہماری امنگوں کے مطابق فیصلے بھی نہیں کرسکے گی‘‘۔

تنظیم آزادیِ فلسطین (پی ایل او ) کے اس دوروزہ اجلاس میں فلسطینی جماعتوں کی قیادت اور اعلیٰ عہدے دار شرکت کررہے ہیں۔حماس کے علاوہ ایک اور مزاحمتی گروپ جہاد اسلامی کو بھی اس اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی حالانکہ یہ دونوں تنظیمیں پی ایل او کا حصہ نہیں ہیں ۔جہاد اسلامی نے بھی اس اجلاس میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔