.

لبنان کو تیل پیدا کرنے والا ملک بنانے کے لیے اقدامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک اطالوی کمپنی کے ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں انکشاف کیا ہے کہ لبنان میں تیل اور گیس کی دریافت کے لیے جیتنے والے کنسورشیم کے ساتھ معاہدوں پر دو ہفتوں کے دوران یعنی جنوری کے اختتام سے قبل دستخط کر دیے جائیں گے۔

مذکورہ پیش رفت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ لبنان سیاسی خلا کے سبب 5 برس تک جاری رہنے والی ٹال مٹول کے بعد اب تیل کی پیداوار کی راہ پر تیزی سے گامزن ہو رہا ہے۔

کچھ عرصہ قبل لبنانی کابینہ نے تین غیر ملکی کمپنیوں Total،ENI اورNovatek کے ساتھ تیل کی دریافت کے حوالے سے طے پائے گئے معاہدوں کے تحت اس سلسلے میں دو خصوصی لائسنس جاری کیے۔ اس طرح لبنان کے "تیل پیدا کرنے والے ممالک کے کلب" میں شمولیت کی امید ایک بار پھر زندہ ہو گئی ہے۔

معاہدوں پر دستخط کے بعد پہلے مرحلے کا آغاز ہوگا جو دو برسوں پر مشتمل ہو گا۔ اس دوران متعلقہ کمپنیاں تمام علاقوں میں دریافت کا منصوبہ پیش کریں گی اور تمام تر لوجسٹک تیاریاں پوری کریں گی۔ پٹرولیم کمپنیوں پر لازم ہو گا کہ وہ بیروت میں اپنے دفاتر کھول کر وہاں سے سرگرمیوں کا آغاز کریں۔ ذرائع کے مطابق 2019 کے آغاز کے ساتھ لبنان میں پہلے کنوئیں کی کھدائی عمل میں آئے گی اور پھر سلسلہ وار دیگر کنوؤں کی باری آئے گی۔ تجارتی سطح پر دریافت کے حصول کے فوری بعد آئل فیلڈز قائم کرنے کا کام شروع کر دیا جائے گا۔ البتہ متعلقہ کمپنیوں کے پہلے مرحلے میں دریافت میں ناکامی کی صورت میں اس مہلت میں ایک برس کی توسیع کر دی جائے گی۔

اس کے بعد متعلقہ کمپنی سمندری دریافت کے مرحلے میں داخل ہو گی اور لبنانی حکومت کو اس امر سے آگاہ کرے گی۔ منصوبے کو منظوری کے لیے کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔

اس offshore exploration کے لیے 4 سے 7 برس درکار ہوں گے۔

تیل اور گیس کی پیداوار سے متعلق اقدامات کے مطابق لبنان کو واقعی طور پر تیل اور گیس پیدا کرنے والا ملک بننے سے قبل 7 سے 10 برس کا عرصہ درکار ہو گا۔

اقتصادی فوائد اور روزگار کے مواقع

یہ تمام پیش رفت اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ لبنان توانائی اور تیل کی ایک بڑی منڈی کے دروازے پر کھڑا ہے جس کے نتیجے میں روزگار کے براہ راست اور بالواسطہ مواقع سامنے اور کثیر اقتصادی فوائد سامنے آئیں گے۔

تیل کی دریافت کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ اُس کے 80% ملازمین اور اہل کار لبنانی شہری ہوں گے۔

تجارتی سطح پر تیل کی پہلی دریافت کے بعد ایک قومی تیل کمپنی کا قیام عمل میں لایا جائے گا تا کہ وہ دیگر عالمی کمپنیوں کے ساتھ مقابلے کی دوڑ میں شامل ہو سکے۔

تیل اور گیس کی پیداوار کے مرحلے تک پہنچنے سے قبل لبنانی ریاست اس بات کے لیے کوشاں ہو گی کہ LNG اسٹیشنوں کے ذریعے قدرتی گیس درآمد کرنے کا آغاز کیا جائے اور اس کو ساحلی علاقوں کے کارخانوں میں تقسیم کیا جائے۔ اس طرح تونائی کی پیداوار میں تقریبا 40% کی کمی آئے گی اور ساتھ ہی لبنان کی پوری ساحلی پٹی پر آلودگی میں بھی نمایاں کمی ہو جائے گی۔