.

حوثیوں کی بارودی سرنگیں، بارود کشتیاں عالمی جہاز رانی کے لیے خطرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی سرکاری فوج نے ایران نواز حوثی ملیشیا پر ایک بار پھر سمندر میں بارودی سرنگوں اور بارود سے بھری کشتیوں کے ذریعے بحر احمر میں بحری جہازوں کو حملوں کا نشانہ بنانے کا الزام عاید کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمنی فوج کے شعبہ اطلاعات کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حوثی باغیوں کی سمندر میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں اور ان کی بارود سے بھری کشتیاں عالمی جہاز رانی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یمن کے شمال مغربی ساحلی علاقے میدی سے 5842 بارودی سرنگوں کی نشاندہی کے بعد انہیں تلف کیا گیا۔ یہ تمام بارودی سرنگیں نہ صرف انسانوں بلکہ گاڑیوں کے لیے بھی خطرہ ہیں۔

یمنی فوج کے انجینیرنگ کے شعبے کے ایک عہدیدار کیٹپن ضیف اللہ صالح نے بتایا کہ بارودی سرنگوں کی تلاش کے دوران گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے لیے بچھائی گئی 2616 بارودی سرنگیں ناکارہ بنائی گئیں۔ اس کے علاوہ لوگوں کو نشانہ بنانے کے لیے 232بارودی سرنگیں،654 نصب بم اور پانی میں بچھائی گئی چالیس سرنگیں ناکارہ بنائی گئیں۔

بیان میں مزید کہا گیاہے کہ حوثی اپنے مذموم مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے ساحلی علاقوں بالخصوص میدی میں بار بار بارودی سرنگیں بچھا کر سرکاری فوج کار استہ روکنے کی مذموم سازشیں کررہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بارودی سرنگوں کی تلاش اور ان کی تلفی کے آپریشن کے دوران دس سیکیورٹی اہلکار جان بحق ہوچکے ہیں۔

حال ہی میں یمنی فوج نے سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے میں مصرف حوثیوں کی ایک کشتی کو نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں تین حوثی جنگجو ہلاک ہوگئے تھے۔ حوثی شدت پسندوں کی جانب سے سمندر میں بارودی سرنگیں بچھا کر عالمی آبی ٹریفک کو روکنے کی متعدد بار دھمکیاں دی جاتی رہی ہیں۔