عفرین کے بعد منبج کو بھی کرد باغیوں سے خالی کرائیں گے:ایردوآن
ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے ایک بار پھر شمالی شام کے کرد اکثریتی علاقے منبج میں فوج داخل کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ان کا کہنا کے عفرین میں فوجی آپریشن مکمل کرنے کے بعد کرد جنگجوؤں کے خلاف منبج میں بھی فوجی کارروائی کی جائے گی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ترک صدر کا کہنا تھا کہ شام میں جہاں بھی ترکی کو خطرہ محسوس ہوا کارروائی کی جائے گی۔
ترکی کے سرکاری ٹی وی پر نشر کیے گئے ایک بیان میں صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا کہ شمالی شام میں کردوں کی قائم کردہ پیپلز پروٹکشن یونٹس کو ختم کیا جائے گا۔ یہ ایک دہشت گرد گروپ ہے جس سے ترکی کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔
انہوں نے کہا کہ عفرین میں کرد باغیوں کے خلاف آپریشن جلد مکمل کیا جائے گا جسکے بعد وہاں سے ایک سو کلو میٹر دور منبج شہر کو بھی امریکی حمایت یافتہ باغیوں سے پاک کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ ترک صدر کی طرف سے یہ دھمکی آمیز بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شمالی شام میں امریکی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف کارروائی پر واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان سخت کشیدگی پائی جا رہی ہے۔
امریکی جوائنٹ کمیٹی کے ڈائریکٹر جنرل کینیتھ ماکنزی نے کہا کہ ہم شام میں محفوظ زون کے قیام کے لیے ترکی سے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔