.

حماس رہ نما پر قاتلانہ حملے میں اسرائیل ملوث ہے:لبنان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی وزارت داخلہ نے جمعے کو ایک بیان میں کہا ہے کہ دو ہفتے قبل لبنان کے شہر صیدا میں فلسطینی تنظیم ’حماس‘ کے ایک رہ نما پر قاتلانہ حملے میں اسرائیل کے ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت ملے ہیں۔

خبر رساں اداروں کے مطابق وزارت داخلہ کی طرف سےجاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہےکہ صیدا شہر میں حماس رہ نما کی گاڑی کو سڑک کے کنارے نصب ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا تھا۔ بیان میں کہا ہے کہ محمد حمدان پر قاتلانہ حملہ اسرائیل نے کرایا۔

خیال رہے کہ 14 جنوری کو جنوبی لبنان میں صیدا کےمقام پر حماس رہ نما محمدحمدان کی گاڑی ایک بم سے ٹکرا کر تباہ ہوگئی تھی۔ اس دھماکے میں حمدان زخمی ہوگئے تھے۔

محمد حمدان حماس کے صف اول کے سیاسی لیڈر ہی اور نہ ہی وہ ذرائع ابلاغ میں زیادہ مشہور ہیں۔ تاہم صیدا میں ایک فلسطینی ذریعے کا کہنا ہےکہ حمدان حماس کے سیکیورٹی ڈھانچے کے اہم عہددار ہیں اور ان کے فلسطین کے اندربھی مزاحمت کاروں سے روابطے ہیں۔

لبنانی وزیر داخلہ نھاد المشنوق کے دفتر سےجاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شعبہ اطلاعات نے حماس رہ نما پر ہونےوالے قاتلانہ حملے کی تحقیقات مکمل کرلی ہیں۔ ہمارے پاس واقعے کا پورا پس منظر، حملہ آوروں کےنام اور ان کا کردار سامنے آگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے میں ملوث ایک مجرم کو بیرون ملک سے گرفتار کرلیا گیا ہے جس نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں کی ہدایت پر یہ دھماکہ کیا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ملزم کی رہائش گاہ سے جدید ترین مواصلاتی آلات اور اس کے اسرائیلیوں کے درمیان رابطوں کی بھی تفصیلات حاصل کی گئی ہیں۔

قبل ازیں حماس نے بھی اس واقعے کی ذمہ داری اسرائیل کے خفیہ ادارے ’موساد‘ پر عایدکی تھی اور اسے مجرمانہ اور بزدلانہ صہیونی جرم قرار دیا تھا۔

لبنانی فوج کا کہنا ہے کہ حمدان کی گاڑی کو نشانہ بنانے کے لیے لوہے کے ایک بکس میں 500 گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔

اسرائیل حماس کو فلسطین میں اپنا سب سے بڑا دشمن تصور کرتا ہے۔ سنہ 2008ء کے بعد صہیونی ریاست حماس کے خلاف تین بار جنگ کرچکی ہے۔ امریکا اور یورپی یونین بھی حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں۔

لبنان کے شہر صیدا میں مئی 2006ء میں ایک کار بم دھماکے میں اسلامی جہاد کے رہ نما اور دو سگے بھائی محمود اور نضال مجذوب جاں بحق ہوگئےتھے۔ 2010ء میں لبنان کی ایک فوجی عدالت نے اسلامی جہاد کے رہ نماؤں کو قتل کرانے کے لیے اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے کے الزام میں ایک لبنانی سیکیورٹی اہلکار کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔