پناہ گزینوں سے ’عشق‘ ہے ان کےبحران حل ہونے چاہئیں: انجلینا جولی

پناہ گزینوں کو ادنٰی حقوق بھی میسرنہیں، عالمی برادری مدد کرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوام متحدہ کی جذبہ خیر سگالی کی سفیر اور سرکردہ سماجی کارکن انجیلنا جولی نے کل اتوار کو اردن میں قائم کردہ الزعتری پناہ گزین کیمپ کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے جنگ سے متاثرہ پناہ گزینوں سے ملاقات کی اور ان کے حالات سے آگاہی حاصل کی۔ جولی کا کہنا تھا کہ انہیں پناہ گزینوں سے عشق ہے اور وہ ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھیں گی۔

معروف امریکی اداکارہ اور سماجی کارکن انجیلنا جولی کا کہنا تھا کہ الزعتری پناہ گزین کیمپ کے مکینوں کو گھروں سےنکلے آٹھ سال ہونے کو ہیں مگر ان کے مسائل اور مشکلات حل نہیں ہوسکی ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے شامی پناہ گزینوں کی پرامن اور جلد از جلد واپسی یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔

خیال رہے کہ شام کی سرحد کےقریب واقع اردن کے شمالی علاقے المفرق میں قائم الزعتری پناہ گزین کیمپ میں 80 ہزار شامی پناہ گزین مقیم ہیں۔

اس کیمپ کےدورے کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انجیلنا جولی کا کہنا تھا کہ میں نے کیمپ میں مفلوک الحال پناہ گزین خاندانوں سے ملاقات کی ہے۔ میں سلامتی کونسل کے رکن ممالک سے مطالبہ کرتی ہوں کہ وہ اپنی معائنہ ٹیمیں کیمپ میں بھیجیں تاکہ پناہ گزینوں کے مسائل کا اندازہ ہو اور ان کی جلد ازجلد پرامن واپسی کی راہ ہموار ہوسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ پناہ گزین قابل رحمت اور محبت کے لائق ہیں اور ان کے بحران جلد از جلد حل ہونے چاہئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بات افسوسناک ہے کہ شام کی خانہ جنگی کو آٹھ سال ہوچکے ہیں اور پناہ گزینوں کا بحران مسلسل گھمبیر ہو رہا ہے۔ شامل سے نقل مکانی کرنے والے 55 لاکھ شامی پناہ گزین اس وقت اردن۔ لبنان، ترکی عراق اوردوسرےملکوں میں مشکل حالات کا سامنا کررہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انجیلنا جولی نے کہا کہ الزعتری کیمپ کا یہ ان کا پانچواں دورہ ہے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے پناہ گزین کے پاس اتنی رقم نہیں کہ وہ ان پناہ گزینوں کی بہبود اور ان کے ادنٰی درجے کے حقوق انہیں فراہم کرنے میں مدد کرسکے۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ برس بھی پناہ گزینوں کی ضروریات کے لیے صرف 50 فی صد فنڈز ملے۔ رواں سال اب تک صرف سات فی صد مالی امداد ملی ہے۔

خیال رہے کہ شام میں 2011ء سے جاری خانہ جنگی کے بعد ملک سے نقل مکانی کرنے والے 6 لالکھ 80 ہزار پناہ گزین اردن میں مختلف کیمپوں میں آباد ہیں۔ جب کہ اردنی حکومت کا دعویٰ ہے کہ شام میں خانہ جنگی کے بعد سات لاکھ شامی اردن منتقل ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں