انجلینا جولی کی روہنگیا میں جنسی جرائم کی شدید مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلمی دنیا کی معروف شخصیت اور سرکردہ سماجی کارکن انجلینا جولی نے بنگلہ دیش میں قائم روہنگیا کے مظلوم مسلمان پناہ گزین کیمپ کے دورے کا اعلان کیا ہے۔

انجلینا جولی نے میانمار کی ریاست راکھین میں برما کی فوج اور پولیس کے ہاتھوں نہتی مسلمان خواتین کی آبروریزی کے واقعات کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روہنگیا میں مسلمان خواتین کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ناقابل بیان ہے۔

خیال رہے کہ انجلینا جولی اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق انسانی حقوق ہائی کمیشن کی مندوب ہیں۔

کینیڈا کے شہر وینکوور میں ایک بنگالی وفد سے ملاقات کے دوران انجلینا جولی نے کہا کہ وہ جلد ہی روہنگیا میں جنسی تشدد کا شکار خواتین سے ملاقات کے لیے بنگلہ دیش جائیں گی۔

قبل ازیں بنگالی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بھی انجلینا جولی کے ایک بیان کا حوالہ دیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ معروف خاتون سماجی رہ نما نے روہنگیا کی مسلمان خواتین کے ساتھ ہونے والی جنسی بدسلوکی کے واقعات کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے میانمار میں مسلح کارروائیوں کی بھی شدید مذمت کی تاہم ان کے دورہ بنگلہ دیش کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

کل جمعرات کو انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ایک رپورٹ میں میانمار کی فوج پر روہنگیا مسلمانوں کی وسیع پیمانے پر نسل کشی کی مہم کے دوران بڑی تعداد میں خواتین کی آبرو ریزی کا الزام عاید کیا ہے۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنسی استحصال روکنے کے لیے قائم کردہ کمیشن کی منوبہ برامیلا پاٹن نے بھی الزام عاید کیا کہ روہنگیا میں خواتین پر جنسی تشدد کے فوج میں اعلیٰ سطح سے احکامات دیے گئےتھے۔

میانمار کی فوج کی طرف سے اپنے طور پر جاری کردہ ایک حالیہ رپورٹ میں مسلمانوں خواتین کے ساتھ جنسی بدسلوکی اور دیگر الزامات کو سختی سے رد کردیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں