امریکا اور ارجنٹائن کا حزب اللہ کے خلاف مل کر کام کرنے سے اتفاق
امریکا اور ارجنٹائن کی حکومتوں نے کہا ہے کہ وہ لاطینی امریکا کے ملکوں میں لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی سرگرمیوں سے مل کر نمٹنے کے لیے کام کریں گے۔
دونوں ملکوں کے درمیان یہ معاہدہ امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن کے دوران ارجنٹائن کے دورے کے موقع پر طے پایا ہے۔ گذشتہ روز امریکی وزیرخارجہ ٹیلرسن نے اپنے ارجنٹائنی ہم منصب خورخی فوری سے ملاقات کی۔
ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ ان کی ارجنٹائن کے وزیرخارجہ کے ساتھ خطے میں حزب اللہ کے نیٹ ورک کےخلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر بات چیت کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ جیسے جرائم پیشہ گروپ بین البراعظمی نیٹ ورک رکھتے ہیں جو منشیات، انسانی اسمگلنگ، مانی لانڈرنگ اور دیگر سماجی جرائم میں ملوث ہیں۔ لاطینی امریکا میں حزب اللہ کے دہشت گردوں کو پناہ دینے کی اور انہیں خفیہ سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کے لاطینی امریکا کے نصف کرہ ارض پر سرگرمیوں کر ہرصورت میں روکا جائے گا۔ یہاں سے حزب اللہ کے دہشت گرد رقوم جمع کرتے ہوئے کے بعد حزب اللہ اور دوسرے دہشت گردوں کو مہیا کی جاتی ہیں۔
اس موقع پر ارجنٹائن کے وزیر نے کہا کہ ان کا ملک حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں میں امریکا کے ساتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاطینی امریکا کو جرائم پیشہ عناصر سے پاک کرتے ہوئے اسے پرامن خطہ بنائیں گے۔
-
حج کا سفر، ارجنٹائن کے رکن پارلیمنٹ کی خوشی ناقابلِ بیان
خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے خرچ پر رواں برس فریضہ حج ادا کرنے ...
مشرق وسطی -
ارجنٹائن کی عدالت کا ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر کی گرفتاری کا مطالبہ
علی اکبر ولایتی پر یہودی مرکز میں دہشت گردانہ حملے میں ملوث ہونے کا الزام
بين الاقوامى -
حزب اللہ ارجنٹائن کے سابق صدر کے بیٹے کی قاتل ؟
ارجنٹائن کے سابق صدر کارلوس مینیم نے ایک عدالت کے روبرو بیان میں کہا ہے کہ لبنان ...
بين الاقوامى