یمن : حجّہ صوبے میں حوثیوں کی کارستانیوں کے سبب 5 لاکھ افراد بے گھر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یمن کے شمال مغربی صوبے حجّہ میں کارکنان نے باور کرایا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے نوجوانوں اور بچوں کی بھرتی حال اور مستقبل کے لیے نہایت خطرناک ہے بالخصوص جب کہ حوثیوں کے زیر قبضہ بعض علاقوں میں نوبت یہاں تک پہنچ رہی ہے کہ وہاں خواتین اور عمر رسیدہ افراد کے سوا کوئی باقی نہیں رہے گا۔

مذکورہ کارکنان کے مطابق انسانوں کے مخصوص طبقے کا یہ خاتمہ صوبے میں رہنے والوں کے خلاف ایک جرم شمار کیا جا رہا ہے۔ حوثی باغی نئی نسل کی تعلیم تربیت کے ذریعے اس کو معاشرے کی ترقی کا ذریعہ بنانے کے بجائے انہیں ایسی جنگ میں جھونک رہے ہیں جس میں شکست کا انہیں پیشگی علم ہے۔

کارکنان نے اس امر پر زور دیا ہے کہ صوبے میں بغاوت کا خاتمہ کر کے اسے حوثی ملیشیا سے آزاد کروایا جائے جس نے شہریوں کی زندگی کو جہنم میں بدل دیا ہے۔

حجّہ صوبے کو باغی ملیشیا کی وجہ سے نقل مکانی کی سب سے بڑی لہر کا سامنا ہے۔ یہاں بے گھر افراد کی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ حوثیوں کے قبضے کے بعد سے صوبے کی بیس لاکھ کے قریب آبادی میں مختلف امراض ، وبائی بیماریاں ، غربت اور بے روزگاری پھیل چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں