.

حوثی باغی یمن کے نجی شعبے میں سوشل سکیورٹی کی رقم ہڑپ کر گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں نجی سیکٹر اور لیبر یونینز نے سرکاری طور پر اس بات کا اقرار کیا ہے کہ سوشل سکیورٹی کے ادارے کو انشورنش کی ماہانہ رقم کی ادائیگی روک دی گئی ہے۔ یہ اقدام ادارے پر باغی حوثی ملیشیا کے مکمل کنٹرول کے خلاف بطور احتجاج کیا گیا ہے۔

حوثی ملیشیا نے "نجی سیکٹر" سے متعلق ملازمین کے لیے مخصوص سوشل سکیورٹی ادارے کے سربراہ کے منصب اور مرکزی انتظامیہ میں تمام ڈائریکٹروں کے عہدوں پر اپنے آدمیوں کو مقرر کر دیا ہے۔ اس طرح ادارے کی 78.9 کروڑ ڈالر کی رقم حوثیوں کے قبضے میں آنے کے بعد ہزاروں ریٹائرڈ افراد کے معاشی حالات کو براہ راست خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

یمن میں لیبر یونینز اور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے اتحادوں نے ایک بیان میں حوثیوں کے فیصلوں کے جواب میں سوشل سکیورٹی کے سرکاری ادارے کو انشورنس کی ماہانہ قسط کی ادائیگی روک دینے کا اعلان کیا ہے۔

بیان میں ادارے کے سربراہ کے منصب پر حوثی رہ نما کے تقرر کو غیر آئینی اور غیر قانونی شمار کیا گیا ہے۔ بیان میں حوثیوں سے اس اقدام کو فوری طور پر منسوخ کرنے اور سوشل سکیورٹی کے سرکاری ادارے میں اپنے ہمنوا افراد کے ذریعے مداخلت روک دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یمن میں آئینی حکومت کے ایک سابق بیان کے مطابق حوثی ملیشیا مذکورہ ادارے پر کنٹرول کے ذریعے 300 ارب یمنی ریال کی رقم ہتھیانے کے لیے کوشاں ہے۔

یمن میں انشورنش کے سرکاری اداروں کی مجموعی رقم کا حجم 12.8 کھرب یمنی ریال (6 ارب ڈالر) کے قریب ہے۔ اس رقم کو ٹریژری بِلز ، سکوک اور سرکاری بونڈز کے علاوہ سرمایہ کاری کے منصوبوں میں لگایا جاتا ہے اور ساتھ ہی پراپرٹی کی صورت میں مستحکم اثاثے بھی مِلکیت میں لیے جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ حوثیوں کی کارستانیوں کے سبب 1.4 لاکھ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین ایک برس سے زیادہ عرصے سے اپنی ماہانہ پینشن سے محروم ہیں۔

اس سے قبل سرکاری ریٹائرڈ ملازمین کی سوسائٹی نے حوثی ملیشیا پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ صنعاء میں مرکزی بینک میں جنرل اتھارٹی فار انشورنس اینڈ پینشنز کے کھاتے میں موجود 20 کھرب یمنی ریال کی رقم لُوٹ چکی ہے۔