.

حماس کے حوالے سے قطر اور اسرائیل کے بیچ رابطہ کاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینیوں کے لیے امداد کے حوالے سے قطر کے ساتھ رابطہ کاری کے ذمّے دار اسرائیلی عہدے دار نے جمعے کے روز بتایا کہ دوحہ نے حماس تنظیم کے لیے فنڈنگ پہنچنے کو روکنے کی کوشش کی۔ تاہم اسرائیلی عہدے دار نے الزام عائد کیا کہ ساتھ ہی دوحہ کی جانب سے حماس کے لیے "محبّت کا اظہار" بھی جاری ہے۔

قطر کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے قطر کی جانب سے غزہ پٹی میں شہری امداد کے واسطے تقریبا 80 کروڑ ڈالر کی فنڈنگ کی منظوری دی جس کے بعد یہ شبہات دم توڑ گئے ہیں کہ دوحہ غزہ پٹی پر کنٹرول رکھنے والی حماس تنظیم کو سپورٹ کر رہا ہے۔

قطری سفیر محمد العمادی نے بیت المقدس میں علاقائی تعاون کے اسرائیلی وزیر سے ملاقات کے بعد برطانوی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو میں کہا کہ "آپ کے خیال میں اگر ہم حماس کی مدد کر رہے ہوتے تو اسرائیلی حکام ہمیں آمد و رفت کی اجازت دیتے ؟ یہ ناممکن ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ہم حماس کی مدد نہیں کر رہے "۔

اسرائیلی وزیر تساحی ہنگبی نے تل ابیب میں ریڈیو کو بتایا کہ "قطری سنجیدگی کے ساتھ اس بات کے لیے کوشاں ہیں کہ حماس کو مضبوط کرنے کے لیے ان کی امداد کا سلسلہ ختم نہ ہو"۔

ہنگبی کے مطابق قطری نمائندے کی جانب سے بات چیت کا انکشاف کیے جانے پر وہ حیران رہ گئے۔ انہوں نے کہا کہ "بالعموم یہ طے ہے کہ اس نوعیت کی ملاقاتوں کو خفیہ رکھا جائے گا تاہم قطریوں نے اس کے انکشاف کا فیصلہ کیا تو یہ ان کا حق ہے"۔