الغوطہ الشرقیہ : دوما کو بشار کے قبضے میں لانے کے لیے نیا روسی سمجھوتہ
شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق دوما شہر میں عسکری کارروائیوں کے حتمی طور پر خاتمے کے لیے ایک معاہدے تک پہنچنے کے واسطے جیش الاسلام تنظیم اور روس کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ المرصد نے باور کرایا ہے کہ حالیہ مذاکرات میں القلمون کے علاقے کو جیش الاسلام کے جنگجوؤں کے خروج کے لیے ایک نمایاں ترین آپشن کے طور پر رکھا ہے۔
اس دوران جیش الاسلام کی جانب سے دوما شہر کی جیلوں میں قید ہزاروں قیدیوں کی، شہر میں ہزاروں مریضوں کے انخلاء کے بدلے رہائی پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔
اقوام متحدہ الغوطہ الشرقیہ کے بعض حصّوں میں فائر بندی کے لیے ابتدائی معاہدے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ اس کے نتیجے میں مقامی فریق اور روس کے درمیان مذاکرات کے حتمی سیشن کا انعقاد ہو گا۔ اس کا مقصد شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانے والا حل تلاش کرنا، حالیہ درپیش مصائب کا سلسلہ رکوانا اور جنگ اور بم باری کو روکنا ہے۔
اس فیصلے کا سبب الغوطہ کے قصبوں پر شامی حکومت اور روس کی بم باری میں شدت کا آ جانا ہے۔
یاد رہے کہ الغوطہ میں انسانی صورت حال ابھی تک "آفت" کی صورت اختیار کی ہوئی ہے۔ غذائی اور طبی امداد کا سامان ختم ہو جانے کے ساتھ رہائش کے لیے غیر موزوں مقامات پر شہریوں کے ہجوم کی وجہ سے بیماریاں بھی پھیل گئی ہیں۔
-
مشرقی الغوطہ میں واقع بڑے شہر دوما سے ہزاروں شہریوں کا انخلا
شامی حکومت سے سمجھوتے کے تحت حرستا سے احرار الشام کے جنگجو اور عام شہری ادلب ...
مشرق وسطی -
بشار الاسد کے مقرّب کا بھیانک خواب الغوطہ میں حقیقت کا روپ دھار گیا !
شامی صدر بشار الاسد کے ایک انتہائی قریبی کارکن وسام الطیر نے مختلف انعامات حاصل ...
مشرق وسطی -
الغوطہ الشرقیہ: روس کے توسط سے ایک شامی اپوزیشن گروپ کے انخلاء کا معاہدہ
برطانوی خبر رساں ایجنسی نے بدھ کے روز شامی اپوزیشن کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے ...
مشرق وسطی