.

کیا ٹرمپ نے چین کے لیے تجارتی باب بند کردیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین اور امریکا کےدرمیان معاشی جنگ اور تجارتی محاذ آرائی نے دونوں ملکوں کو مشکل میں ڈالا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین اور امریکا کا ایک دوسرے کی درآمدات پر اضافی ٹیکس عاید کرنے سے دونوں کی معیشت اور کاربار پر اثرات مرتب ہوں گے۔

ادھرچینی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار وانگ یی نے ویتنام کے دارالحکومت ھانوی میں علاقائی اقتصادی فورم سے خطاب میں کہا کہ چین ترقیاتی مواقع میں دوسرے ممالک کو بھی شریک کرے گا، تاہم امریکا کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی تنازع کے باعث چین میں تجارتی تحفظ کے اقدامات کا باب بند ہوسکتا ہے۔

گذشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی درآمدات پر 60 ارب ڈالر کا اضافی کسٹم ٹیکس عاید کیا تو اس کے جواب میں بیجنگ نے امریکی مصنوعات پر 30 ارب ڈالر ٹیکس لگا دیا تھا۔

چینی وزارت خارجہ کے عہدیدار وانگ یی نے کہا کہ چین میں سیاسی اصلاحات اور اقتصادی شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے سب کو شامل کرنے کی پالیسی تبدیل ہوگی اور نہ ہی خارجی عوامل اسے متاثر کرسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بیجنگ ملک میں لائی جانے والی اقتصادی اصلاحات کا سفر جاری رکھے گا کیونکہ یہ اصلاحات ملک وقوم کے وسیع تر مفاد میں ہیں۔ ان اصلاحات سے نہ صرف چینی قوم بلکہ دوسرے ممالک بھی مستفید ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ چین غیرملکی کمپنیوں کو اپنے ہاں سرمایہ کاری کے لیے بہتر ماحول فراہم کرے گا۔ وانگ یی کا کہنا تھاکہ کھلے پن کا مظاہرہ دوطرفہ ہونا چاہیے۔ چین دوسرے ممالک کے لیے اپنے دروازے کھولے گا اور دوسرے ممالک چین کے لیے دروازے کھولیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تجارتی امور میں اختلافات معمول کی بات ہے۔ تاہم اس باب میں برابری کی بنیاد پر مشاورت، عالمی قوانین اور قواعد کو منظر رکھتے ہوئے معقول حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔