شام میں مسلح باغیوں اور یرغمالیوں کا انخلاء شروع
شام کے حکومت مخالف باغی جنگجوؤں نے اتوار کو کئی ہفتوں کی ناکہ بندی کے بعد تباہ شدہ شامی شہر دوما سے نکلنا شروع کر دیا ہے۔
شام کے سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ باغیوں اور حکومت کے درمیان روس کی نگرانی میں طے پانے والے معاہدے کے تحت اس محصور شہر سے ہزاروں جنگجو باہر نکل جائیں گے۔
ایک بس میں درجنوں جنگجوؤں اور ان کے اہلِ خانہ کے ہمراہ شہر سے نکل کر شمالی شام کی طرف روانہ ہو گئے۔
اسی دوران سرکاری ٹیلی ویژن پر دوما میں باغیوں کی جانب سے یرغمال بنا کر رکھے جانے والے افراد کو ایک فوجی چوکی میں پہنچتے ہوئے دکھایا گیا جن کا سینکڑوں پرجوش رشتہ داروں نے استقبال کیا۔
یہ دونوں اقدامات روسی پشت پناہی میں ہونے والے ایک معاہدے کے بعد عمل میں آئے۔ اس کے تحت باغیوں کو دوما سے نکلنے کا راستہ فراہم کیا گیا ہے جب کہ اس کے بعد باغی تنظیم جیش الاسلام سینکڑوں یرغمالوں اور جنگی قیدیوں کو رہا کرے گی۔
روس کی فوجی پولیس اس معاہدے پر عمل درآمد کروائے گی۔
یہ معاہدہ شامی صدر بشار الاسد کی دسمبر 2016 کے بعد سے ایک بڑی فتح ہے جب باغیوں کو حلب سے نکال باہر کیا گیا تھا۔
تاہم اب بھی شمال مغربی اور جنوب مغربی شام میں باغیوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔
-
ایران اور روس ’’جانور بشارالاسد‘‘ کی پشت پناہی کررہے ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
اسد رجیم کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے پر سابق صدر اوباما بھی دوما میں نئے ...
بين الاقوامى -
سعودی عرب کا عالمی برادری سے دوما میں شہریوں کے تحفّظ کا مطالبہ
سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے شام کے علاقے دوما میں بشار حکومت کی جانب سے کیمیائی ...
مشرق وسطی -
دوما میں بشار حکومت نے شہریوں کے خلاف اِن دو گیسوں کا استعمال کیا
شام میں مشرقی غوطہ کے علاقے دوما میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب بشار الاسد کی ...
مشرق وسطی