’داعش‘ متنازع علاقوں میں دوبارہ منظم ہو رہی ہے :پیشمرگہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے صوبہ کُردستان کی سرکاری فوج ’پیشمرگہ‘ نے خبردار کیا ہے کہ کردستان اور بغداد کے درمیان متنازع علاقوں پر شدت پسند گروپ ’داعش‘ ایک بار پھر فعال ہو رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی وفد سے ملاقات میں ’پیشمرگہ‘ فورس کے وزیر کریم سنجاری نے کہا کہ اربیل اور بغداد کے درمیان متنازع سمجھے جانے والے علاقوں میں داعش ایک بار پھر خود کو منظم کررہی ہے۔ حالیہ دنوں میں داعش کے جنگجوؤں کی ان علاقوں میں غیر معمولی نقل و حرکت دیکھی گئی ہے۔

خیال رہے کہ عراق کے صوبہ کردستان اور بغداد کے درمیان بعض علاقوں کو متنازع خیال کیا جاتا ہے۔ متنازع علاقوں میں وہ مقامات شامل ہیں جنہیں عراقی فوج نے ستمبر2017ء کے دوران کردستان کی علاحدگی کے اعلان کے بعد کارروائی کر کے اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔ کردستان ان علاقوں پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ کریم سنجاری کا اشارہ بھی انہی علاقوں کی جانب تھا۔

کرد ذرائع ابلاغ کے مطابق سوموار کے روز پیشمرگہ فورس کے اعلیٰ حکام کا ایک اجلاس بھی ہوا جس میں بعض علاقوں میں داعش کی بڑھتی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

کردستان کے بعض علاقوں جن میں تیل کی دولت سے مالا مال کرکوک کا شہر بھی شامل ہے تین سال تک داعش کے قبضے میں رہا ہے۔

عراق فوج کے میڈیا سیل کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اتوار کی شام کرکوک میں بارود سے بھری کار سے کیے گئے دھماکے میں تین افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں