.

شامی باغیوں کا دمشق کے شمال مشرق میں واقع محاصرہ زدہ علاقے سے انخلا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے دارالحکومت دمشق کے شمال مشرق میں واقع علاقے قلمون سے باغیوں اور ان کے خاندانوں کے انخلا کا آغاز ہوگیا ہے اور وہ روس اور شامی حکومت سے سمجھوتے کے تحت اپنا گھربار چھوڑ کر ملک کے شمال مغرب کی جانب جارہے ہیں۔

اس سمجھوتے کے تحت محاصرہ زدہ قلمون سے باغی جنگجو ؤں ،ا ن کے رشتے داروں اور دوسرے شہریوں کو باغی گروپوں کے زیر قبضہ شمال مغربی صوبے ادلب اور ترکی کی سرحد کے نزدیک صوبہ حلب میں واقع شہر جرابلس کی جانب روانہ کیا جارہا ہے ۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن کے ایک نشریے کے مطابق قلمون سے باغیوں کے انخلا سے یہ تمام علاقہ اب ریاست ( اسد حکومت) کے کنٹرول میں آجائے گی۔مبصرین باغیوں کی سمجھوتے کے تحت دمشق سے قریبا ً 40 کلومیٹر دو ر واقع قلمون سے پسپائی کو بشارالاسد کی ایک اور بڑی جنگی فتح قرار دے رہے ہیں ۔

آج مشرقی قلمون سے قریباً 32 سو جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کی روانگی متوقع تھی۔اس علاقے میں شامی فوج سے برسرپیکار ایک باغی گروپ کے ترجمان نے کہا ہے کہ روسی لڑاکا طیاروں کی ایک قصبے الرحیبہ پر شدید بمباری کے بعد انھوں نے انخلا کے سمجھوتے سے اتفاق کیا ہے۔

احمد عبدہ شہداء بریگیڈ کے ترجمان سعید سیف نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ شدید فضائی بمباری کے بعد جیش الحر کے دھڑے روس کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر مجبور ہوگئے تھے۔پھر ان کے درمیان سمجھوتا طے پا گیا ہے اور اس کی اہم شقوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنے بھاری ہتھیاروں سے دستبردار ہوکر ملک کےشمال کی جانب چلے جائیں گے‘‘۔

الرحيبہ سے دس بسوں پر مشتمل پہلا قافلہ روانہ ہوگیا تھا اور اس کی ملک کے شمال کی جانب سفر پر روانہ ہونے سے قبل شامی سکیورٹی فورسز نے تلاشی لی تھی۔اس کے علاوہ قلمون ہی میں واقع دو اور قصبوں جيرود اور الناصریہ سے بھی باغی اور ان کے خاندان چلے جائیں گے۔

دریں اثناء شامی فوج اور اس کے اتحادیوں نے دمشق کے جنوب میں واقع ایک اور محاصرہ زدہ علاقے الحجر الاسود میں باغیوں کے ٹھکانوں پر شدید بمباری کی ہے۔شام کے سرکاری ٹی وی کی فوٹیج میں الحجر الاسود میں فضائی حملوں کے بعد عمارتوں سے دھواں اٹھتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔اس علاقے اور فلسطینی مہاجرین کے کیمپ الیرموک پر داعش اور دوسرے جنگجو گروپوں کا قبضہ ہے۔

شامی حکومت کے حامی علاقائی فوجی اتحاد کے ایک کمانڈر کا کہنا ہے کہ جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر ہر طرح سے حملے کیے جارہے ہیں ۔داعش کے ٹھکانوں کو شامی فوج کے ہیلی کاپٹر نشانہ بنا رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے تحت فلسطینی مہاجرین کے امور کی ذمے دار ایجنسی اُنروا نے الیرموک کیمپ میں مقیم قریباً بارہ ہزار فلسطینیوں اور اس کے نواحی علاقوں میں مقیم دوسرے افراد کے بارے میں گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اُنروا کے ترجمان کرس گنز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ کیمپ اور اس کے نواح سے دربدری کا سلسلہ جاری ہے اور لوگ جنگ سے بچنے کے لیے نزدیک واقع علاقے یلدہ کی جانب جارہے ہیں ۔بعض خاندان ابھی تک الیرموک ہی میں مقیم ہیں ۔وہ شدید لڑائی کی وجہ سے وہاں سے نکل نہیں سکتے یا پھر انھوں نے وہیں رہنے کا انتخاب کیا ہے۔ہمارے پاس ایسے کوئی اعداد وشمار نہیں ہیں کہ کتنے لوگ وہاں سے چلے گئے ہیں لیکن الیرموک اور یلدہ میں انسانی صورت حال انتہا ئی ابتر ہے‘‘۔