.

واشنگٹن جوہری معاہدے سے دست بردار ہوا تو یورینیم کی بھرپور افزودگی کریں گے : ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا 2015ء میں طے پائے جانے والے جوہری معاہدے سے سبکدوش ہوا تو ایران "بھرپور" طریقے سے یورینیم کی افزودگی کا عمل دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔

ہفتے کے روز نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ظریف کا کہنا تھا کہ ایران جوہری بم کے حصول کے واسطے کوشاں نہیں ہے مگر واشنگٹن کی جانب سے جوہری معاہدے سے دست بردار ہونے کی صورت میں تہران کا "ممکنہ" جواب افزودہ یورینیم کی دوبارہ پیداوار ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی قانون سازوں اور یورپی حلیفوں سے مطالبہ کیا تھا کہ جوہری معاہدے میں "سنگین نوعیت کی خامیوں" کی درستی کی جائے ورنہ دوسری صورت میں واشنگٹن قریبی مدت میں معاہدے سے نکل جائے گا۔

فرانسیسی صدر عمانوئل ماکروں اور جرمن چانسلر اینجیلا مرکل آئندہ ہفتے دو علاحدہ سرکاری دوروں پر واشنگٹن کا رخ کریں گے جن کا جزوی طور پر مقصد ٹرمپ کے ساتھ ایران کے معاملے کو زیر بحث لانا ہے۔

ظریف نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر ماکروں اور چانسلر مرکل کی جانب سے صدر ٹرمپ کو مطمئن کرنے کی کوشش بے فائدہ ریاضت ہو گی۔

آئندہ ماہ 12 مئی تک ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا تہران پر امریکی اقتصادی پابندیوں کو دوبارہ عائد کیا جائے یا نہیں۔ عائد ہونے کی صورت میں یہ پابندیاں 2015ء میں ایران اور چھ بڑی طاقتوں کے درمیان طے پائے گئے معاہدے کے لیے ایک کاری ضرب ہوں گی۔ ٹرمپ نے اپنے یورپی حلیفوں پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ معاہدے کی اصلاح کے لیے واشنگٹن کے ساتھ کام کریں۔

جواد ظریف کے مطابق امریکا نہ صرف معاہدے پر عمل درامد میں ناکام ہوا ہے بلکہ وہ مزید مطالبات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "یہ ایرانی عوام اور دنیا کے دیگر ممالک کے لوگوں کے لیے ایک خطرناک پیغام ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آپ امریکا کے ساتھ کبھی کوئی معاہدہ طے نہ کریں۔ اس لیے کہ آخرکار امریکا کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جو میرے پاس ہے وہ مجھے حاصل اور جو آپ کے پاس ہے وہ مذاکرات کے قابل"۔