عراق: مقتدی الصدر کی توپوں کا رخ الفتح انتخابی الائنس کی جانب
اگرچہ عراق میں پارلیمانی انتخابات کے انعقاد میں دو ہفتوں سے بھی کم وقت رہ گیا ہے تاہم سیاسی جماعتوں اور انتخابی بلاکوں کے درمیان گرما گرمی کی فضا میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
اسی حوالے سے عراق میں الصدری گروپ کے سربراہ مقتدی الصدر نے ہفتے کے روز ہادی العامری کی سربراہی میں بننے والے انتخابی الائنس الفتح کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخابی مہم میں شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے نام سے فائدہ نہ اٹھایا جائے۔
الصدر نے الفتح الائنس کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ "انتخابات میں ووٹوں کے حصول کے لیے الحشد الشعبی اور داعش کے خلاف جہاد کا نام استعمال نہ کیا جائے۔ بالخصوص جب کہ داعشیوں کے خلاف جنگ اور اس میں کامیابی یہ صرف اللہ کا فضل اور مذہبی علمی شخصیات کے طفیل ہے۔ ہم اور آپ صرف سپاہی ہیں اور بے ہودہ ملیشیاؤں کی اس میں کوئی نوازش نہیں"۔
الصدر کے مطابق الفتح الائنس کی تشکیل نجف کے دینی مرجع کی نافرمانی ہے۔
اس سے قبل شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے رہ نما قیس الخزعلی نے آئندہ انتخابات میں اپنے الفتح الائنس کی جیت کا اعلان کر دیا تھا۔ گزشتہ پیر کو مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الخزعلی کا کہنا تھا کہ آئندہ وزیراعظم یا تو الحشد الشعبی ملیشیا کے زیر انتظام الفتح الائنش سے ہو گا اور یا پھر اسی الائنس کے متعین کردہ معیار کے مطابق ہو گا۔
الخزعلی الفتح الائنس کے سربراہ ہادی العامری کی بطور آئندہ وزیراعظم نامزدگی کی سپورٹ کا اعلان کر چکے ہیں جو ایران سے اپنی وفاداری کے حوالے سے معروف ہیں۔
دوسری جانب ایران کے شہر قُم میں سکونت پذیر ایرانی نژاد عراقی مذہبی مرجع كاظم الحائری نے گزشتہ ہفتے کے روز اپنی سرکاری ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں عراقیوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ انتخابات میں شریک ہو کر ایران کے حمایت یافتہ الفتح الائنس کا چُناؤ کریں۔
یاد رہے کہ الحشد الشعبی ملیشیا کے ایک رہ نما اوس الخفاجی جمعرات کے روز الفتح الائنس میں بعض بدعنوان وزراء کی موجودگی کا اعلان کر چکے ہیں۔