ایران اور قطر کے تعلقات اعلانیہ شکل اختیار کرچکے ہیں: قرقاش
متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران اور قطر کے باہمی تعلقات کوئی حیرت کی بات نہیں۔ دونوں ملکوں میں ماضی میں خفیہ تعلقات رہے ہیں اور اب تہران اور دوحہ کے درمیان یہ تعلقات اعلانیہ شکل اختیار کر چکے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ’ٹوئٹر‘ پرپوسٹ ایک بیان میں انور قرقاش نے کہا کہ ایران سے قربت اور یمن کے حوثی باغیوں کی حمایت پر قطری عوام حکومت سے خوش نہیں۔
التواصل القطري الإيراني على أعلى المستويات والتوافق في الطرح والرأي كما أوردته وكالة مهر الإيرانية الْيَوْمَ ليس بالمستغرب، فما هو إلا إنتقال من المستور إلى المفضوح، هو توجه إنتهازي ملتبس في دعم الحوثي وغيره من المواقف ولعله لا يعبر عن قناعات المواطن.
— د. أنور قرقاش (@AnwarGargash) June 18, 2018
ان کا کہنا تھا کہ قطر خلیجی ممالک کاحصہ ہوئے ایران کی طرف داری اور ایران کی حامی قوتوں کو سپورٹ کررہا ہے۔ تجاویز اور مشوروں میں دونوں ملک ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے’مہر‘ کی رپورٹ میں ایران اور قطر کے درمیان قربت کی رپورٹ پر کوئی حیرت نہیں۔ قطر اور ایران کے تعلقات اب اعلانیہ شکل اختیار کرچکے ہیں۔ ایران کی خوش نودی کے لیے قطر یمن میں حوثی باغیوں کے بارے میں نرم رویہ رکھتا اور باغیوں کی حمایت کرتا ہے۔ ان کا کہنا مزید کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ قطری عوام دوحہ حکومت کی ایران نواز پالیسی اور حوثیوں کی حمایت پر بالکل بھی خوش نہیں ہیں۔ قطری عوام اگر حکومت کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام کے مخالف ہیں تو وہ ایران اور حزب اللہ سے قربتیں بڑھانے کے بھی حامی نہیں ہیں۔
خیال رہے کہ کل سوموار کو امیر قطر الشیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور ایرانی صدر حسن روحانی کے درمیان ٹیلیفون پر رابطہ ہوا اور دونوں رہ نماؤں نے ایک دوسرے کو عید کی مبارک باد پیش کی تھی۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی’مہر‘ کے مطابق امیر قطر نے صدر حسن روحانی کو فون کیا تھا۔ دونوں رہ نماؤں نے ٹیلیفون پر بات چیت میں ایک دوسرے کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے سے اتفاق کیا۔