درعا کے دو قصبوں میں شامی اپوزیشن گروپ روسی تصفیے پر آمادہ
شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد السوری کے مطابق روس اور درعا کے مشرقی دیہی علاقے کے قصبوں کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اس دوران دو قصبوں بصری الشام اور الجیزہ کے نمائندے روسی معاہدے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔
المرصد کے مطابق معاہدے اس امر کا متقاضی ہے کہ اپوزیشن بھاری اور درمیانے ہتھیاروں کو حوالے کر دے گی جب کہ چھوٹے ہتھیار اپنے پاس باقی رکھے گی۔ اس کے علاوہ اداروں اور سرکاری مراکز پر شامی حکومت کا پرچم لہرا کر انہیں دوبارہ فعّال کیا جائے گا۔
اس حوالے سے اتوار کے روز شامی قصبے بصری الشام میں اپوزیشن گروپوں اور روسی افسران کے درمیان مذاکرات کا نیا دور ہوا۔ بات چیت کا مقصد جنوبی شام میں فائر بندی اور حالات پرسکون بنانا ہے۔ ہفتے کے روز فریقین کے درمیان مذاکرات ناکام ہو جانے کے بعد بات چیت کا نیا دور اردن کی وساطت سے منعقد ہوا۔
شامی اپوزیشن نے مذاکرات میں ناکامی کا ذمّے دار روس کی جانب سے مطالبات میں سختی کو قرار دیا۔ تاہم اردن کو اپنی شمالی سرحد پر لڑائی کے بھڑکنے کے حوالے سے تشویش لاحق ہے لہذا اس نے مداخلت کر کے فائر بندی کی کوشش کی۔
شامی حکومت روس کی سپورٹ کے ساتھ 19 جون سے درعا صوبے میں وسیع عسکری آپریشن کر رہی ہے۔ آپریشن کا مقصد صوبے کو مکمل طور پر واپس لینا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس دوران ہزاروں شہریوں نے راہ فرار اختیار کی۔
-
شامی حزبِ اختلاف کی درعا میں لڑائی رکوانے کے لیے روس سے بات چیت ناکام
شامی حزبِ اختلاف کی جنوبی صوبے درعا میں سرکاری فوج کے حملے رکوانے کے ...
مشرق وسطی -
درعا : شامی اپوزیشن اور روس کے درمیان مذاکرات
شامی اپوزیشن کے مذاکرات کاروں نے ہفتے کے روز انکشاف کیا ہے کہ جنوبی صوبے درعا میں ...
مشرق وسطی -
شام کے جنوبی صوبے درعا میں فضائی حملوں میں 22 شہری ہلاک
شام کے جنوبی صوبے درعا میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقے پر روسی فضائیہ کے ...
مشرق وسطی