عراقی فورسز کی 8یرغمالیوں کے قتل کے بعد داعش کے خلاف بڑی کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

عراقی فورسز نے سخت گیر گروپ داعش کے بچے کھچے جنگجوؤں کے خلاف بدھ کو ایک بڑی کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔

داعش کے جنگجوؤں نے 29 جون کو یرغمال بنائے گئے آٹھ عراقی شہریوں کو بے دردی سے قتل کردیا تھا۔ان کی لاشیں بغداد کے شمال میں واقع علاقے سے ایک مرکزی شاہراہ سے ملی تھیں۔ان کے اندوہ نا ک قتل پر عراقی شہریوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا اور حکومت سے داعش کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

داعش نے ان یرغمالیوں کو قتل کرنے سے قبل ان کی ایک ویڈیو بھی جاری کی تھی۔اس میں انھوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر عراقی جیلوں میں قید خواتین کو رہا نہ کیا گیا تو ان افراد کو قتل کردیا جائے گا۔

داعش کے خلاف عراقی فورسز کی اس نئی کارروائی کو ’’ شہداء کا انتقام ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔اس میں فوج ، خصوصی دستے ،وفاقی پولیس ، الحشد الشعبی اور کرد البیش المرکہ کے دستے حصہ لے رہے ہیں ۔

عراق کی مشترکہ آپریشنز کمان (جے او سی) کے ایک بیان کے مطابق ملک کے وسطی علاقے میں داعش کے خفیہ سیلوں ، ٹھکانوں اور کمین گاہوں کا سراغ لگایا جارہا ہے اور صوبے دیالا اور کرکوک کے درمیان واقع شاہراہ کے مشرقی علاقے کو داعش کے جنگجوؤں سے پاک کیا جارہا ہے۔

جے او سی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اب تک کی فوجی کارروائی میں ایک انتہاپسند کو ہلاک اور آٹھ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ان کی گاڑیوں اور فوجی آلات بھی قبضے میں لے لیے گئے ہیں۔

عراق کے خود مختار علاقے کردستا ن میں گذشتہ سال متنازع ریفرینڈم کے انعقاد کے بعد پہلی مرتبہ وفاقی فورسز اور کرد البیش المرکہ فورسز داعش کے خلاف مشترکہ کارروائی کررہی ہیں۔ عراقی فضائیہ کے علاوہ امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد بھی اس آپریشن میں زمینی فورسز کی فضائی مدد کررہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں