.

بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے کویت کی عراق کو امداد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی حکومت توانائی کے شعبے میں 40 ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ کرنے کے باوجود توانائی بُحران پرقابو پانے میں بری طرح ناکام ہے۔ حکومت کی بد انتظامی، کرپشن اور بجلی کے بحران کے حل میں عدم دلچسپی کے نتیجے میں عوام میں سخت غم وغصہ بھی پایا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں حکومت کے خلاف عوامی احتجاج کے پیچھے دیگر محرکات میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن بھی بتایا جاتا ہے۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے مطابق عراق میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے پڑوسی خلیجی ملک کویت نے بغداد کی مدد کا فیصلہ کیا ہے۔

جنوبی عراق کی سرحد گذرگاہ سفوان کے ایک با خبر ذریعے نے بتایا کہ کویت کی طرف سے عراق کو 17 پاور پلانٹ مہیا کیے گئے ہیں تاکہ بصرہ گورنری اور دوسرے علاقوں میں بجلی کے بحران پرقابو پایا جا سکے۔

ایک سوال کے جواب میں ذرائع نےبتایا کہ کویت کی طرف سے مہیا کردہ پاور پلانٹ روزانہ 34 میگاواٹ بجلی پیدا کر سکیں گے۔ گذرگاہ کی انتظامیہ وفاقی حکومت کی طرف سے پاور پلانٹ نصب کے احکامات کی منتظر ہے۔

خیال رہے کہ عراق کے جنوبی علاقے البصرہ میں گذشتہ کئی روز سے احتجاج جاری ہے۔ دو ہفتے سے علاقے کو ایرانی بجلی کی سپلائی لائن معطل ہے جس کے نتیجے میں عوام میں غم وغصہ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

درایں اثناء عراقی شیعہ سیاست دان مقتدیٰ الصدر کے سیاسی اتحاد السائرون نے حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے شہریوں کے مطالبات کوآئینی قرار دیا ہے۔ سائرون کے صدر ڈاکٹر حسن العاقولی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت حکومت کے خلاف عوامی احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے مظاہرین کے مطالبات کو آئینی قراردیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت مخالف مظاہرین اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے احتجاج پر مجبور ہیں۔