اقوام متحدہ اور مصر کی وساطت سے غزہ میں جنگ بندی
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ تازہ کشیدگی کے بعد اسرائیل اور اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] غزہ کی پٹی کے علاقے میں عارضی جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔ فریقین کے درمیان جنگ بندی کے لیے مصر اور اقوام متحدہ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
ادھراسرائیل کے ایک عہدیدار نے اخبار ’ہارٹز‘ کو بتایا کہ اگر رات فلسطینیوں کی طرف سے کسی راکٹ حملے کے بغیر گذر گئی تو سمجھیں کہ کشیدگی ختم ہوگئی ہے۔
فلسطینی ذرائع کے مطابق غزہ میں جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کے مندوب برائے مشرق وسطیٰ نیکولائے ملاڈینوف اور مصر نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ دو روز کےدوران اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پر کئی فضائی اور زمینی حملے کیے جن کے نتیجے میں تین فلسطینی شہید اور 20 زخمی ہوگئے تھے۔ اسرائیلی فوج نے گذشتہ شام مغربی غزہ میں ایک ثقافتی مرکز پر بمباری کی۔
فلسطینی وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے بتایا کہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 20 فلسطینی شہری زخمی ہوئےہیں۔ اسرائیلی فوج کی بمباری کے جواب میں فلسطینیوں نے اسرائیلی کالونیوں پر راکٹ حملے کیے تاہم ان حملوں میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
-
حماس۔اسرائیل معاہدے سے قبل فوجی کشیدگی میں اضافہ
غزہ پر اسرائیلی بمباری میں خاتون، بچے سمیت 03 فلسطینی شہید ہو گئے
مشرق وسطی -
غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش میں گرفتار 7 سویڈش کارکن بے دخل
رضاکاروں کی گرفتاری، اسرائیل کی عالمی قانون کی خلاف ورزی ہے:سویڈن
مشرق وسطی -
اسرائیل کے ساتھ "جنگ بندی" کے حوالے سے حماس کی مشاورت اختتام پذیر
غزہ میں فلسطینی تنظیم حماس نے اسرائیل کے ساتھ فائر بندی اور فتح تریک کے ساتھ ...
مشرق وسطی