ترکی کی مدد سے شامی اپوزیشن قومی فوج تشکیل دینے میں کامیاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

تُرکی کی مدد سے شامی اپوزیشن کے مختلف گروپوں نے 35 ہزار جنگجوؤں پر مشتمل قومی فوج تشکیل دی ہے۔ ملک کے چپےچپے کو باغیوں سے پاک کرنے کے اسد رجیم کے عزم کے خلاف یہ فوج ایک چیلنج بن سکتی ہے تاہم فی الحال شامی اپوزیشن کی یہ فوج ملک کے شمال مغربی علاقوں تک محدود ہے۔

خیال رہے کہ ترکی نے سنہ 2016ء میں اپنی فوجیں شام میں داخل کیں اور ’داعش‘ کے خلاف کارروائی کے لیے ’فرات کی ڈھال‘ آپریشن شروع کیا۔ اس آپریشن کے دوران ترکی کی سرحد سے متصل علاقوں اعزاز اور جرابلس سے داعشی دہشت گردوں کو نکال باہر کیا گیا تھا۔

ترکی کی نے شامی اپوزیشن کی معاونت اس لیے شروع کی ہے تاکہ اسد رجیم کی سرکاری فوج کے سامنے ایک نئی رکاوٹ کھڑی کی جائے۔

ترکی کی جانب سے شامی اپوزیشن کی قومی فوج کی تشکیل کے کئی مقاصد ہیں۔ ایک طرف اس کا مقصد اسد رجیم کی راہ روکنا ہے تو دوسری طرف کردستان ورکر پارٹری کی سرگرمیوں کو کمزور کرنا ہے۔ اس پیش رفت کا تیسرا ہدف شام میں’داعش‘ کے خلاف کارروائی کو آگے بڑھانا ہے۔

شام میں اپوزیشن کی نمائندہ قومی فوج کے لیے ایک ضابطہ اخلاق اور ان کے دائرہ اختیار کے تعین کے لیے قوانین بھی وضع کیے گئے ہیں۔ قومی فوج سے وابستہ کسی جنگجو کو اندھا دھند گولیاں چلانے کی اجازت نہیں۔ یہ فورس جیلوں کی نگرانی نہیں کرے گی اور عدالتی حکم کے بغیر کسی شخص کو گر فتارنہیں کیا جائے گا۔

’العربیہ‘ کےمطابق شامی اپوزیشن کے گروپوں کے مابین پائے جانے والے اختلافات نے اپوزیشن کو اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے سے روکے رکھا ہے۔ اس کےعلاوہ اپوزیشن کے کئی ایسے گروپ شام میں موجود ہیں جن کے غیرملکی مدد گارآپس میں اختلافات رکھتے ہیں۔ بعض گروپوں کو روس اور بعض کوامریکا اور مغرب کی حمایت حاصل ہے۔ یوں وہ گروپ اپنے مخصوص مفادات اور دائرے میں رہ کر کام کرتےہیں۔ تاہم ترکی کی شام کے اندر موجودگی کے نتیجے میں شامی اپوزیشن کی قومی فوج کی کار کردگی بہتر ہوسکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں