.

کیا چین سخت خاندانی منصوبہ بندی کی پالیسی میں تبدیلی کر رہا ہے؟َ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین کی حکومت طویل عرصے سے سخت ترین خاندانی منصوبہ بندی کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ اس پالیسی کے تحت طویل مدت تک صرف ایک بچہ پیدا کرنے کی اجازت دی جاتی تھی۔ بعد میں دو بچوں کی اجازت دے دی گئی تھی۔ آبادی کو کنٹرول کرنے کا یہ حربہ کسی حد تک مفید رہا مگراس کے بعض منفی پہلو بھی سامنے آئے۔

چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومت اب سخت ترین خاندانی منصوبہ بندی کی پالیسی میں تبدیلی لانے کے لیے تیار ہے۔ ایک حکومتی اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عن قریب ایک سول ایکٹ منظور کیا جائے گا جس میں متنازع خاندانی منصوبہ بندی کو ختم کردیا جائے گا۔

اس نئے قانون کے تحت دو سے زیادہ بچے پیدا کرنے خاندانوں کو جرمانے کرنے یا خواتین کو اسقاط حمل پرمجبورکرنے کا سلسلہ ختم کردیا جائے گا۔

اخبار’بروکیوراتوریت ڈیلی‘ کے مطابق نئے مجوز قانون سخت خاندانی منصوبہ بندی کی سمت اہم پیش رفت ہے۔ مروجہ قانون کے مطابق ایک خاندان کو دو سے زیادہ بچے پیدا کرنے کی اجازت نہیں۔

مجوزہ آئینی بل جلد ہی پارلیمنٹ میں غورکے لیے پیش کیا جائے گا مگر اس کی منظوری سنہ 2020ء تک متوقع ہے۔

خیال رہے کہ چین کی کیمونیسٹ پارٹی نے سنہ 1979ء میں ’ایک بچہ‘ پالیسی نافذ کی مگرسنہ 2016ء میں آبادی میں بوڑھوں کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر دو بچوں کی اجازت دے دی گئی تھی۔ اس وقت چین کی کل آبادی ایک ارب چالیس کروڑ سے زیادہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چین میں افراد کارکی قلت کے خدشے کی وجہ سے محدود خاندان کی پالیسی ختم کرنے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے کیونکہ بوڑھوں کی تعداد میں اضافے کے نتیجے میں نہ صرف مردو خواتین میں توازن بگڑنے اور اقتصادی مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔