بصرہ میں ظلم وزیادتی کا سلسلہ بند ہونا چاہیے، مزید صبر کا امتحان نہ جائے: مقتدیٰ الصدر
عراق کے جنوبی شہر بصرہ میں متعدد مظاہرین کی ہلاکت اور صورت حال کے خراب ہونے کے بعد الصدری گروپ کے شیعہ سیاسی رہ نما مقتدیٰ الصدر نے عراق میں گُھس آنے والے بیرونی عناصر اور بصرہ کے لوگوں کے خلاف تشدد کے استعمال پر خبردار کیا ہے۔
منگل کی شب رات گئے اپنی ٹویٹ میں مقتدیٰ الصدر نے کہا کہ "بہت ہو چکا، ہمارے صبر کا امتحان نہ لیا جائے۔ بصرہ میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ اس مظلوم شہر کے خلاف المیہ شمار ہو گا"۔
— السيد مقتدى الصدر (@Mu_AlSadr) September 4, 2018
ان کا کہنا تھا کہ نہتّے مظاہرین نے اس سے زیادہ مطالبہ نہیں کیا کہ انہیں پینے کا صاف پانی، بجلی اور روزگار کا موقع فراہم کیا جائے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سکیورٹی فورسز میں بعض ایسے بیرونی عناصر سرایت کر گئے ہیں جنہوں نے مظاہرین کو مارا پیٹا اور قتل بھی کیا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے نمائندے نے بتایا کہ بصرہ میں صوبائی حکومت کی عمارت کے نزدیک سکیورٹی فورسز کی براہ راست فائرنگ کی زد میں آ کر پانچ مظاہرین ہلاک اور کم از کم 30 زخمی ہو گئے۔اس کے بعد غیظ و غضب کا شکار احتجاج کرنے والوں نے صوبائی حکومت کی اس عمارت کو آگ لگا دی تھی۔
احتجاج کرنے والوں نے منگل سے مقامی حکومت کی عمارت کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ عمارت میں بصرہ آپریشنز کے کمانڈر جلیل الشمری موجود ہیں جنھوں نے پورے صوبے میں عمومی کرفیو نافذ کرنے کا حکم دیا تھا۔
واضح رہے کہ مقامی پولیس کا ان جھڑپوں میں کوئی کردار نہیں اور صوبے میں عوامی احتجاج کے آغاز کے بعد سے پولیس نے مظاہرین پر اسلحہ بھی نہیں تانا۔
صوبہ بصرہ میں انسانی حقوق کی سرکاری کونسل کے سربراہ مہدی التمیمی نے سکیورٹی فورسز پر مظاہرین پر براہ راست گولیاں چلانے کا الزام عاید کیا ہے۔