اخوان کے ’مُرشدِ عام‘ اور 64 ارکان کو ایک اور عمر قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

مصر کی ایک فوج داری عدالت نے اتوار کے روز مذہبی جماعت اخوان المسلمون نے زیرحراست مرشد عام محمد بدیع اور جماعت کے 64 دیگر رہ نماؤں کو ’العدوہ‘ تشدد کیس میں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے مطابق ’المنیا‘ میں قائم فوجی عدالت میں یہ کیس کئی سال سے جاری تھا۔ یہ کیس 14 اگست 2013ء کو صدر محمد مرسی کی معزولی کےخلاف ’رابعہ العدویہ‘ اور ’النہضہ‘ گراؤنڈ میں جاری دھرنا ختم کرنے کے بعد العدوہ شہر میں پیش آیا۔ المنیا گورنری کے اس شہر میں اخوان المسلمون کے کارکنوں نے جلاؤ، گھیراؤ، توڑپھوڑ اور تشدد کے حربے استعمال کیےاور لوٹ مار کے ساتھ ایک پولیس اہلکار کو قتل کردیا تھا۔

اکیس جون 2014ء کو المنیا کی فوجی عدالت نے مرشد عام محمد بدیع سمیت 182 ملزمان کو سزائے موت،4 کو عمر قید اور 496 کو بری کردیا تھا۔ تاہم گیارہ فروری 2015ء کو اپیل کورٹ نےاخوان رہ نماؤں کی سزائے موت کالعدم قرار دی تھی۔ اخوان المسلمون ان تمام الزامات کی تردید کرتےہوئے ریاستی اداروں پر تشدد کا الزام عاید کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں