.

لبنان : داعش سےو ابستہ فلسطینی مہاجر زہر خورانی کی سازش کے الزام میں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں سکیورٹی فورسز نے داعش سے مبینہ طور پر تعلق رکھنے والے ایک فلسطینی مہاجر کو زہر خورانی کی دو سازشوں میں ملوث ہونے کےا لزام میں گرفتار کر لیا ہے۔اس مشتبہ فلسطینی نے لبنانی فوج کو مہیا کیے جانے والے پانی اور بیرون کھانے میں زہر ملانے کی کوشش کی تھی۔

لبنان کی جنرل سکیورٹی فورسز نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ فلسطینی مہاجر 1991ء میں پیدا ہوا تھا ۔اس نے شام میں داعش کے ایک رکن سے روابط کا اعتراف کیا ہے۔اسی نے اس کو دھماکا خیز مواد اور زہر تیار کرنے کا کام سونپا تھا۔اس نے بیرون ملک ایک اور شخص کے ساتھ مل کر اس تمام سازش کو عملی جامہ پہنانا تھا۔

ان میں سے ایک نے لبنانی فوج کے پانی کے ٹینکوں میں زہر ملانا تھا۔ان ٹینکوں سے فوج کے ٹرکوں کے ذریعے روزانہ بیرکوں میں پانی مہیا کیا جاتا ہے۔دوسرے شخص نے باہر کے ایک ملک میں عام تعطیل کے دن کھانے میں زہر ملانا تھا تاکہ لوگوں کو اس طرح بڑے پیمانے پر ہلاک کیا جا سکے۔

سکیورٹی فورسز نے فلسطینی مہاجر کو متعلقہ عدالتی حکام کے حوالے کر دیا ہے اور اب وہ اس تمام سازش میں ملوث دوسرے افراد کی تلاش میں ہیں۔

واضح رہے کہ پڑوسی ملک شام میں مارچ 2011ء سے جاری جنگ کے لبنان پر بھی بہت منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔اس دوران میں لبنانی سکیورٹی فورسز نے سخت گیر جنگجو گروپ داعش سے وابستہ بہت سے مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے اور ان کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے جارہے ہیں۔

لبنان میں 2013ء کے بعد متعدد خودکش بم دھماکے بھی ہوئے ہیں۔ ان میں بعض کی داعش ہی نے ذمے داری قبول کی تھی۔ داعش کے جنگجوؤں نے لبنان اور شام کے درمیان واقع سرحدی علاقے میں اپنے ٹھکانے بنا رکھے تھے لیکن انھوں نے گذشتہ سال اگست میں ایک سمجھوتے کے تحت ان ٹھکانوں کو خالی کردیا تھا۔