.

"اقتصادی بحران کے باعث 70 فی صد ایرانی صنعتیں بند ہو گئیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی گارڈین کونسل کے رکن اور شکست خوردہ صدارتی امیدوار مصطفیٰ میر سلیم نے دعویٰ‌کیا ہے کہ امریکا کی طرف سے عاید کردہ پابندیوں اور اس کے نتیجے میں ملک میں پیدا ہونے والے اقتصادی بحران نے ملک کی صنعت تباہ کردی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سابق صدارتی امیدار اور سرکردہ سیاسی شخصیت نے حکومتی اداروں میں پائی جانے والی کرپشن اور وزارتوں کی غیر تسلی بخش کارکردگی پر بھی شدید تنقید کی۔ انہوں‌نے کہا کہ ایران میں جاری حالیہ اقتصادی بحران کے باعث 70 فی صد صنعتیں بند ہوچکی ہیں۔

خبر رساں ایجنسی "ایلنا" کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں انہو مصطفیٰ‌میر سلیم نے کہا کہ ابتر معاشی حالات کےبعد ایران میں ورکشاپیں، کارخانے اور کانیں بند ہورہی ہیں۔ کمپنیوں اور کارخانوں کے پاس اپنے ملازمین کو ادا کرنے کے لیے رقم نہیں۔ کاروبار ماندھ پڑنے سے فیکٹری مالکان کو کام بند کرنا پڑ رہا ہے۔

خیال رہے ک ایرانی ایوان صنعت وتجارت کے چیئرمین ابو الفضل کلبایکانی روغنی نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ خام مال کی سپلائی نہ ہونے اور ہارڈ کرنسی کی عدم موجودگی کے نتیجے میں ملک میں وسیع پیمانے پر صنعتی سرگرمیاں بند ہو رہی ہیں۔

ایرانی وزیر صنعت کے استعفے کے بارے میں بات کرتے ہوئے میر سلیم نے کہا کہ ملک میں زیادہ تر صنعتی سرگرمیاں وزارت صنعت ہی کے زیرانتظام ہوتی ہیں۔ صنعت کے شعبے کا وزیر ایسا شخص ہونا چاہیے کو مدبر، منتظم اور صنعتی امور کو باریکی سے جاننے والا ہو۔

ادھر ایران میں سخت گیر گروپ سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ نے صدر حسن روحانی کےوزراء کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت موجودہ اقتصادی بحران کے حل کے حوالے سے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کرسکی۔