.

شام : بشار حکومت کی جیلوں میں تشدد کے سبب مزید ہلاکتوں کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں بشار الاسد کی حکومت کے گرفتار مخالفین کی ایک نئی کھیپ اُن افراد کی فہرست میں شامل ہو گئی ہے جو سرکاری جیلوں میں تشدد کے باعث وقتا فوقتا اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ سیرین نیٹ ورک فار ہیومن رائٹس نے رواں ماہ یکم نومبر کو جاری اپنی رپورٹ میں اکتوبر کے دوران شامی حکومت کی جیلوں میں تشدد کے باعث 14 گرفتار افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ علاوہ ازیں کرد خود مختار انتظامیہ کی فورسز کے ہاتھوں بھی دو گرفتار افراد کی ہلاکت کا معلوم ہوا ہے۔

مذکورہ ہیومن رائٹس نیٹ ورک کے مطابق ہلاک ہونے والے ان 16 افراد میں اپوزیشن کارکن قتیبہ محمد ہکوش شامل ہے۔ قتیبہ نومبر 2014ء میں تشدد کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا تاہم سرکاری طور پر اس کی موت کی تصدیق 29 اکتوبر کو کی گئی ہے۔ سال 1990ء میں پیدا ہونے والے قتیبہ کو فروری 2014ء میں گرفتار کیا گیا تو اُس وقت وہ دمشق یونیورسٹی کے انجینئرنگ انسٹی ٹیوٹ میں زیر تعلیم تھا۔

سیرین نیٹ ورک رواں برس کے آغاز کے بعد سے اب تک شامی حکومت کی جیلوں میں تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں حزب اختلاف کے 925 ارکان کی ہلاکت کی تصدیق کر چکا ہے۔ نیٹ ورک نے 24 اکتوبر کو ایک حراستی مرکز میں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے دو بھائیوں حسين احمد اور اس کے بھائی فیاض احمد کی موت کا بھی انکشاف کیا ہے۔ ان میں حسین کو 2013 ء جب کہ فیاض کو 2014ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔

شام میں گرفتار شدگان اور لاپتہ افراد کے امور کی قومی کمیٹی نے "أنقذوا_البقية" (باقیوں کو بچا لیں) کے نام سے ایک نیا ہیش ٹیگ جاری کیا ہے۔ یہ ادارہ شام کے نیشنل اپوزیشن الائنس کے ساتھ مربوط ہے۔ ادارے نے ٹوئیٹر پر شامی حکومت کے بعض گرفتار مخالفین کا ڈیٹا جاری کیا ہے۔ بشار حکومت کے حراستی مراکز میں ڈالے جانے کے بعد سے ان افراد کا انجام نامعلوم ہے۔

شامی کمیٹی نے گزشتہ ماہ کی 19 تاریخ کو بتایا تھا کہ شطرنج کے کھیل میں شام اور عرب دنیا کی چیمپین خاتون ڈاکٹر رانیا العباسی کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے۔ بشار حکومت نے رانیا، ان کے شوہر اور چھ بچوں کو 2013ء میں گرفتار کر لیا تھا۔

اسی طرح 20 ستمبر 2012ء کو شامی حکومت کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے کمیونسٹ لیبر پارٹی کے رہ نما اور بشار حکومت کے مخالف ڈاکٹر عزیز الخيّر کے بارے میں بھی کوئی خبر نہیں ہے۔

بشار حکومت کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد نامعلوم انجام کی حامل شخصیات میں فلسطینی شاعرہ سلمی عبدالرزاق بھی شامل ہیں۔ انہیں 30 دسمبر 2012ء کو شامی حکومت کی سکیورٹی فورسز نے گرفتار کیا تھا۔ مذکورہ فلسطینی شاعرہ دمشق یونیورسٹی کے انجینئرنگ کالج کی طالبہ ہیں۔

گرفتار شدگان اور لاپتا افراد کے امور سے متعلق کمیٹی کے مطابق شامی سکیورٹی فورسز نے 2012ء میں حزب اختلاف کی شخصیت ایڈوکیٹ خليل معتوق اور 2013ء میں صحافی جہاد محمد کو حراست میں لیا تھا۔ بعد ازاں اب تک دونوں افراد کے انجام کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔

معروف شامی فن کار زکی کورڈیلو اور ان کے بیٹے مہیار بھی 2012ء سے شامی سرکاری حکام کے ہاتھوں گرفتار ہیں تاہم دونوں باپ بیٹوں کے بارے میں کسی کو کچھ علم نہیں ہے۔

مذکورہ شامی کمیٹی کے مطابق شامی حکومت کی جیلوں میں تشدد کے سبب جان سے ہاتھ دھونے والوں میں شام کی باسکٹ بال ٹیم کے کپتان سامح سرور شامل ہیں جن کو شامی حکومت نے 2012ء میں گرفتار کیا تھا۔ سامح کی موت کی تصدیق رواں برس جولائی میں کی گئی جب کہ ان کی موت کی تاریخ 2014ء کے اوائل کی ہے۔