لائبرمین کا استعفیٰ، کیا نیتن یاھو کی حکومت کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

فلسطینی علاقے غزہ میں فوج کشی کی تیاریوں کے دوران کابینہ کی سیکیورٹی کمیٹی کا اچانک جنگ بندی قبول کرنے کا فیصلہ حماس کے خلاف سخت فوجی کارروائی کرنے والے عناصر کے لیے کافی بھاری ثابت ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ "اسرائیل بیتونا" کے سربراہ اور وزیراعظم بنجن نیتن یاھو کے اہم اتحادی آوی گیڈور لائبرمین نے غزہ میں جنگ روکنے پر بہ طور احتجاج عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

لائبرمین کے اس استعفے کے بعد وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی حکومت کے حوالے سے کئی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

لائبرمین نے کہا کہ میں‌نے اپنے عہدےسے اس لیے استعفیٰ دیا کہ غزہ میں حماس کو رقوم کی منتقلی روکنے کی ان کی تجویز نہیں مانی گئی۔ اس کے علاوہ حکومت نے غزہ میں حماس کو سبق سکھانے کے بجائے "دہشت گردوں" کےسامنے گھٹنے ٹیک دیے اور جنگ بندی کا اعلان کرکے یہ تاثر دیا گیا کہ حماس اسرائیل سے زیادہ طاقت ور ہے۔

اسرائیل کے حکمراں اتحاد میں اختلافات کا یہ پہلا موقع نہیں۔ قطر کی جانب سے غزہ کی پٹی کو ایندھن کی سپلائی ہو یا غزہ میں حماس کےملازمین کے لیے 15 ملین ڈالر کی قطری گرانٹ ہو۔ نیتن یاھو کے اتحاد میں شامل وزراء کو ان اقدامات پر اعتراض رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کا اعلان کوئی حیرت کی بات نہیں مگر اس اعلان نے نیتن یاھو کو پریشان ضرور کردیا ہے۔

اسرائیل کے حکمراں اتحاد کی قیادت بنجمن نیتن یاھو کی جماعت "لیکوڈ" کے ہاتھ میں ہے جس کی 120 رکنی پارلیمنٹ میں مشترکہ طور پر 67 نشستیں ہیں۔ مستعفی ہونے والے وزیر دفاع آوی گیڈور لائبرمین کی جماعت "یسرائیل بیتونو" کی کنیسٹ میں کل 6 سیٹیں ہیں۔ نیتن یاھو کو اپنی حکومت برقرار رکھنے کے لیے ایوان میں 21 نشستوں پرحمایت درکار ہے اور لائبرمین کے چلے جانے کے بعد بھی ان کے پاس یہ کوٹا مکمل ہے۔ اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ آوی گیڈورلائبرمین کے استعفے کے بعد نیتن یاھو کی حکومت خطرے میں پڑ گئی ہے۔

جہاں تک وزارت دفاع کے عہدے کا تعلق ہے تو لائبرمین کے استعفے کے بعد یہ عہدہ براہ راست وزیراعظم کے پاس چلا گیا ہے۔ نیتن یاھو وزارت عظمیٰ کے ساتھ ساتھ خارجہ اور صحت کےقلم دان بھی اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں اور اب دفاع کی وزارت بھی ان کے پاس چلی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق نیتن یاھو دفاع کا منصب اپنے کسی مقرب فوجی کو دینے کے خواہاں ہیں اور ممکنہ طورپر وزارت دفاع کا عہدہ جیوش ہوم کے سربراہ نفتالی بینٹ کودیا جاسکتا ہے۔

بہ ظاہر ایسے لگتا ہے کہ موجودہ اسرائیلی حکومت میں دائیں بازو کے مذہبی اور دائیں بازو کے انتہا پسندوں پر مشتمل ہے۔ نیتن یاھو کے مقربین میں زیادہ تر مذہبی یہودی عناصر شامل ہیں۔

اسرائیل میں رائے عامہ کے تازہ جائزوں میں نیتن یاھو کی عوامی مقبولیت میں کوئی زیادہ فرق یا کمی نہیں دیکھی جا رہی۔ اگر نیتن یاھو تین ماہ کے اندر اندر انتخابات کا اعلان کرتے ہیں تو وہ پھر بھی فایدے میں رہیں گے تاہم آوی گیڈور لائبرمین کو بھی وزارت دفاع کی قربانی دینے کا فائدہ مل سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں