.

جنگ سے تباہ حال شام میں کرسمس پر مسیحی برادری کے جذبات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال مشرقی شہر قامشلی میں کرسمس کی روایتی گہما گہمی اور سجاوٹ کی کمی کے باوجود مسیحی اکثریتی علاقوں میں اس کا اہتمام نظر آ رہا ہے۔ شہر کی آبادی نسلی تنوع پر مشتمل ہے۔

قامشلی میں مسیحی برادری خطے میں پھیلی کشیدگی کے زیر سایہ کرسمس منا رہی ہے کیوں کہ ترکی کی جانب سے مسلسل یہ دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ وہ دریائے فرات کے مشرق میں سیرین ڈؑیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے زیر کنٹرول علاقوں پر زمینی حملے کا ارادہ رکھتا ہے۔ البتہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن گزشتہ ہفتے یہ اعلان کر چکے ہیں کہ شمالی شام میں فوجی آپریشن کو مؤخر کیا جا رہا ہے۔

قامشلی میں کرسمس منانے والے مقامی لوگوں میں ایک شخص نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "اس علاقے میں کوئی باقی نہیں رہا۔ گزشتہ 7 برسوں سے مقامی آبادی اپنا بوریا بستر سمیٹ کر ہجرت کر کر رہی ہے۔ بہت سے لوگوں کے ملک سے باہر نقل مکانی کرنے کے بعد وہ وقت قریب ہے کہ آج ہم جس محلے میں سکونت پذیر ہیں وہ آبادی سے ہی خالی ہو جائے"۔

قامشلی میں مسیحی اکثریت علاقوں کو ماضی میں سلسلہ وار دھماکوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ ان میں زیادہ تر کارروائیوں کی ذمے داری داعش تنظیم نے قبول کی۔ علاوہ ازیں داعش تنظیم قامشلی کے نواحی دیہات کی مسیحی آبادی کے بعض افراد کو اغوا کا نشانہ بھی بنا چکی ہے۔ اس امر کے سبب بہت سے لوگ ملک سے باہر ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔

حلب

شام کے شہر حلب میں بھی کرسمس کا حال قامشلی سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔ دونوں شہروں کے لوگوں کو سجاوٹ کی اشیاء، کپڑوں اور مٹھائیوں کی ہوش ربا قیمتوں کا سامنا ہے۔

ایک نوجوان نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "حلب میں میرے دوست نہیں رہے۔ ان میں اکثریت ہجرت کر کے جا چکی ہے اور میں بھی یہ چاہتا ہوں کہ ان سے جا ملوں۔ میرے پاس اتنی رقم نہیں ہے کہ بیرون ملک سفر کے اخراجات برداشت کر سکوں مگر میں اس کی کوشش کر رہا ہوں"۔

ایک دوسرے نوجوان نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "حلب میں جنگ کے اثرات کے نتیجے میں جب شہر کی سڑکوں پر چلتا ہوں تو وہ پہچانی نہیں جاتی ہیں۔ موجودہ حالات کے باوجود جو لوگ ملک میں رہ گئے ہیں وہ بھی ہجرت کے لیے کوشاں ہیں"۔

شام میں مسیحی برادری کو عموما شدت پشند تنظیموں کی جانب سے بہت پریشان کیا جاتا رہا ہے۔ ایسی صورت میں کرسمس کی تقریبات کو شامی حکومت اور سیرین ڈٰیموکریٹک فورسز کے زیر کنٹرول علاقوں تک ہی محدود رکھے جانے کی امید ہے۔

ادلب میں دیہی علاقے کے ایک شامی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "ایسے مسیحی دیہات بھی ہیں جن کی آبادی نے کوچ نہیں کیا مگر وہ اپنی مذہبی رسومات کی عدم انجام دہی کے پابند ہیں"۔