.

زیرسمندر سائنسی تحقیقات کے لیے سعودی عرب کا بحری جہاز کا افتتاح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی حکومت نے زیرسمندر آبی وسائل اور موسمی تغیرات کے بارے میں سائنسی تحقیقات کے لیے خصوصی بحری جہاز بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سعودی عرب کے خبر رساں ادارے 'ایس پی اے' کے مطابق وزیرتوانائی وقدرتی توسائل انجینیر خالد بن عبدالعزیز الفالح نے 'ناجل' نامی اس سائنسی تحقیقات بحری جہاز کاافتتاح کردیا ہے۔ یہ بحریی جہاز خلیج عرب اور بحیرہ روم میں موجود مچھلیوں کی اقسام، زیرآب موسمی تغیریات اور سمندر کے نیچے موجود معدنیات اور دیگر قدرتی وسائل کا پتا چلانے میں مدد دے گا۔

سعودی وزیر برائے قدرتی وسائل خالد الفالح نے کہا کہ سمندر میں سائسی تحقیقات شاہ عبدالعزیز سائنس وٹیکنالوجی سٹی کے تحقیقاتی مشن کا حصہ ہے۔ سعودی عرب کی حکومت مقامی جامعات، کمپنیوں اور بین الاقوامی ریسرچ مراکز کے ساتھ مل کر زیرسمندر موجود قدرتی وسائل کا پتا چلانے اور ان سے استفادہ کرنے کے پروگرام پرعمل پیرا ہے۔ ان کاکہنا تھا کہ تحقیقاتی مشن کے نتیجے میں سمندر میں ماہی گیری کے شعبے کو بہتر بنانے، مچھلیوں کی اقسام کے بارے میں معلومات اور سمندر میں مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب سمندری حیات کے بارے میں اہم معلومات حاصل کرسکے گا۔

سعودی عرب کی جانب سے تیار کردہ سائنسی تحقیقاتی مشن کے خصوصی بحری جہاز میں‌عملے کے افراد کے علاوہ 14 سائنسدانوں کی گنجائش ہوگی۔ انہیں جہاز میں تمام جدید مواصلاتی آلات اور وسائل مہیا کیے جائیں گے۔