.

’الجزیرہ انگلش‘ من گھڑت خبروں کا پلیٹ فارم ہے: نیوز گارڈ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک معروف میڈیا واچ ڈاگ News Guard کی جانب سے "الجزيرہ انگلش" چینل کے ناظرین اور اس کی ویب سائٹ پڑھنے والے افراد کو خبردار کیا گیا ہے کہ "الجزیرہ انگلش" کا پلیٹ فارم "خبروں کی درستی، مصداقیت اور پیشہ وارانہ انداز کے بنیادی معیارات کی پاسداری" میں ناکام ہو چکا ہے۔

مذکورہ واچ ڈاگ نے الجزیرہ انگلش پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ باقاعدگی کے ساتھ دانستہ طور پر حقائق کو مسخ کر رہا ہے تا کہ قطری حکومت کے مفادات کو پورا کیا جا سکے کیوں کہ یہ قطر کی ملکیت ہے اور وہ ہی اس کی فنڈنگ کر رہا ہے۔

میڈیا واچ ڈاگ News Guard کے مطابق الجزیرہ انگلش درج ذیل صحافتی معیارات کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے:

معلومات کو ذمے دارانہ طریقے سے اکٹھا کرنا اور پیش کرنا
خبروں اور آراء کے درمیان فرق سے ذمے دارانہ طریقے سے نمٹنا
ملکیت اور فنڈنگ کے ذرائع کا شفاف طریقے سے انکشاف
مفادات کے کسی بھی ممکنہ ٹکراؤ کے بارے میں شفافیت اور سچائی سے انکشاف
نشر کیا جانے والا مواد تیار کرنے اور تحریر کرنے والوں کے ناموں، ان سے رابطے کے ذریعوں یا ان کے بارے میں معلومات فراہم کرنا

’’نیوز گارڈ‘‘ کی رپورٹ کے مختصر اقتباسات نقل کرنے والی ویب سائٹ "واشنگٹن فِری بیکن" کا کہنا ہے کہ اگرچہ 2011 میں الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک کو قانونی طور پر پبلک کمپنی سے پرائیوٹ کمپنی میں تبدیل کر دیا گیا تھا تاہم اس کی ملکیت ابھی تک قطری حکومت کے پاس ہے جو اس کی فنڈنگ کرتی ہے۔ یہ امر مذکورہ بالا معیارات کی پاسداری میں آڑے آ رہا ہے۔

واشنگٹن فری بیکن ویب سائٹ کے لیے تحقیق تیار کرنے والے میڈیا تجزیہ کار جیفری سیمینو کا کہنا ہے کہ الجزیرہ انگلش دانستہ طور پر مسلسل اُن موضوعات کو تحریف کے ساتھ پیش کر رہا ہے جو قطری حکومت کے دشمنوں سے متعلق ہوتے ہیں۔ سیمینو کے مطابق نیوز گارڈ کے نزدیک مصداقیت اور سچائی کے سادہ ترین بنیادی اصولوں کی خلاف ورزیوں کے ساتھ الجزیرہ انگلش کا یہ دعوی کہ وہ درست رپورٹیں پیش کرتا ہے ،،، کسی طور ممکن نہیں۔ اس کے تیار کردہ مواد کا مقصد قطری حکومت کے حق میں اور اس کے پڑوسی ممالک کے خلاف پروپیگنڈے کی مہم کو آگے بڑھانا ہے۔

’’نیوز گارڈ‘‘ کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نيويارک ٹائمز، وال اسٹریٹ جرنل، فوکس نیوز اور ڈیلی بیسٹ پیشہ وارانہ اسلوب اور اعتبار کے معیار کی پاسداری کررہے ہیں۔ تاہم اس میڈیا واچ ڈاگ نے الجزیرہ انگلش، InfoWars ،Breitbart اور Daily Kos کے حوالے سے انتہائی خبردار رہنے پر زور دیا ہے۔

’’دی ٹائمز‘‘ اخبار کے مطابق دنیا بھر میں خبروں کے اداروں کے کام سے متعلق کڑی نگرانی کے حوالے سے ’’نیوز گارڈ‘‘ کو دنیا میں غذا اور دوا کے شعبے میں سرگرم نگرانی کی بڑی باڈیز جیسا مقام حاصل ہے۔ ’’نیوز گارڈ‘‘ نے خبروں اور معلومات سے متعلق 2000 ویب سائٹس کی درجہ بندی کی ہے اور ان کی مصداقیت اور معیار کے حوالے سے مختلف رنگوں کی علامات بھی متعین کی ہیں۔

’’نیوز گارڈ‘‘ کی درجہ بندی ٹیم میں 50 کے قریب افراد شامل ہیں۔ یہ تمام افراد صحافی، تجزیہ کار اور وسیع تجربے کی حامل شخصیات ہیں۔