.

نُوری المالکی نے داعش میں عراق کے داخلے کے لیے امریکی پیسے کا کیسے استعمال کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حال ہی میں امریکی وزارت انصاف نے "Sallyport Global Services" نامی عالمی تعمیراتی کمپنی کو عراق میں دیے گئے ٹھیکوں کی تحقیقات شروع کی ہیں۔ ان تحقیقات کا مقصد جاننا ہے کہ آیا اس کمپنی نے امریکی ٹیکس دہندگان کے ادا کردہ اربوں ڈالر کو عراقی عہدیداروں کو رشوت دینے کے لیے استعمال کیا تھا یا نہیں۔ امریکی اخبار'دی ڈیلی بیسٹ' کی رپورٹ کے مطابق اس بات کا امکان کم ہے کہ امریکی حکام گہرائی کے ساتھ اس کرپشن کی گہرائی تک جا سکیں گیں۔

نوری المالکی اوراس کا خاندان

رپورٹ میں‌ بتایا گیا ہےکہ عراق میں امریکی فوجی ٹھیکوں کےحصول میں ایک بڑا نام سابق عراقی وزیراعظم نوری المالکی کا ہے۔ انہوں نے عراق کی 'آفاق' نامی ایک فرم کے ساتھ مل کرعراق میں بڑے بڑے ٹھیکے حاصل کیے۔

اس کیس کی تفصیلات اس وقت سامنے آئیں جب دو عینی شاہدین نے دستاویزات کے ذریعے امریکی فوج کے عراق میں دیئے گئے ٹھیکوں میں ہونے والی مبینہ کرپشن کے بارے میں گواہی دی۔ اس کےعلاوہ 30 دوسرے ذرائع کو بھی اس کیس میں سنا گیا۔ تاہم سیکیورٹی وجوہات کی بناء پران سب کے نام صیغہ راز میں رکھےگئے تھے۔

مرکزی ٹھیکیدار

"سالیپورٹ" کمپنی مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے ممالک میں عسکری تنصیبات کی تیاری پرکام کرتی ہے۔ اس کمپنی کا ایک بڑا ہیڈ کواٹرعراق میں‌ بغداد سے 64 کلو میٹر دور 'بلد' فضائی اڈے میں واقع ہے۔ یہ فوجی اڈہ 'ایف 16' جنگی طیاروں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

'بلد' فوجی اڈہ بہ ظاہر عراق کا ہے مگر اسے امریکی حکومت کی طرف سے جاری کردہ فنڈز تعمیر کیا گیا۔ اس کےعلاوہ یہ اڈہ وہاں پرکام کرنے والے بڑے ٹھیکیداروں کا بھی مرکز ہے۔

جنوری 2014ء کو "سالیپورٹ" کمپنی نے امریکی فوج کے ساتھ ایک معاہدہ کیا۔ اس معاہدے میں عراق میں امریکی فوجی اڈوں کو لاجسٹک سپورٹس فراہم کرنا، فوجیوں کی تربیت میں مدد، بجلی،خوراک اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی شامل تھی۔ اس کام کے عوض امریکی فوج کی طرف سےکمپنی کو 1 ارب 10 کروڑ ڈالر کی رقم ادا کی گئی۔

"بلد" فوجی اڈے کے ٹھیکے سے قبل اس کمپنی نے 'آفاق ام قصر برائے نیول سروسز' نامی ایک کمپنی سے معاہدہ کیا۔ امریکی وزارت خزانہ کی طرف سے انتباہ کیا گیا کہ 'آفاق' کو سالیپورٹ کمپنی ایک تیسری کمپنی Caliburn International کے ذریعے کنٹرول کرتی تھی۔ اس کمپنی کے عراق میں D.C. Capital Partners کے ساتھ شیئرز تھے۔

بالاآخر 'آفاق' سابق عراقی وزیرعظم نورالمالکی کے قبضے میں آگئی۔ یہ کمپنی رشوت وصولی اور بدعنوانی کے دوسرے الزامات کا سامنا کرتی رہی ہے۔ اس میں نور المالکی کا بیٹا احمد المالکی اور داماد یاسر سخیلی المالکی بھی شامل رہےہیں۔

امریکی قوانین کی پامالیاں

امریکی وزارت انصاف کی جانب سے شروع کی گئی تحقیقات میں 'آفاق' اور "سالیپورٹ" کمپنیوں کے درمیان شراکت داری اور عراقی حکام کو دی گئی مبینہ رشوت کے حوالے سے چھان بین شامل ہے۔

دونوں کمپنیوں کے شراکتی معاہدہ سنہ 2012ء میں اس وقت ہوا جب سالیپورٹ کمپنی نے عراق میں سیکیورٹی اور میڈیکل سروسز کا ایک نیا کنٹریکٹ کیا۔ یہ دوسرا معاہدہ عراق میں 'کیمپ سپائکر' کے قیام کے لیے کیا گیا۔ یہ اڈہ دوسری خلیج جنگ میں مارے جانے والے امریکی پائلٹ اسکاٹ اسپائیکر نامی پائلٹ کے نام پر کیا گیا تھا۔ سنہ 2014ء میں اس اڈے پر داعش نے قبضہ کرلیا۔

عراقی عدالتوں میں دائر کردہ دعوے

آفاق اور سالیپورٹ کے درمیان معاہدہ دیر پا ثابت نہیں ہوا۔ نوری المالکی اس وقت عراق کی طاقت ور شخصیت تھے مگر اس کے باوجود ان کے ساتھ ہونے والے کاروباری ٹھیکوں کے مذاکرات کامیاب نہیں‌ہوسکے۔

ستمبر 2014ء کو داعش نے عراق پر اپنے حملوں کے بعد ڈرامائی انداز میں ملک کے وسیع رقبے پرقبضہ کرلیا جو بالاآخر نوری المالکی حکومت کے زوال کا موجب بنے۔ اس طرح داعش نے نہ صرف نوری المالکی اور ان کے خاندان کے کاروبار حکومت پر کاری ضرب لگائی بلکہ ان کی حمایت یافتہ کمپنی 'آفاق' کو بھی کاری ضرب لگائی گئی۔

سنہ 2016ء کو "سالیپورٹ" نے "آفاق" کے ساتھ طے معاہدے کے باوجود رقوم کی ادائیگی روک دی۔ اگست 2016ء کو آفاق "سالیپورٹ کے خلاف عدالت میں جا پہنچی اور کمپنی 7 کروڑ ڈالر کا مطالبہ کردیا۔ اس کے بعد ایک دوسرا دعویٰ دائر کیا گیا جس میں 90 ملین ڈالر کا مطالبہ کیا گیا۔

ابتدائی طورپر آفاق کو اپنے دعووں میں ناکامی کا سامنا کرنا مگر اس نے اپنی کوششیں جاری رکھیں اور آخر کار اپیل کورٹ نے سالیپورٹ کو آفاق کی 56 ملین ڈالر کی نادہندہ یا مقروض قرار دیا۔