.

غربت کے ہاتھوں مجبور یمنی خاندان نے 3 سالہ بچی کی شادی کرڈالی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنگ وجدل کے باعث یمن بدترین غربت سے دوچار ہے۔ حالات یہاں تک جا پہنچے ہیں کہ لوگ پیٹ کا ایندھن بھرنے کے لیے کم سن بچیوں کو فروخت کرنے یا ان کی شادی کرنے پر مجبور ہیں۔

یمن میں خوراک کی فراہمی کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم'آکسفام' نے منگل کے روز ایک لزرہ خیز رپورٹ جاری کی جس میں بتایا کہ غربت کےشکار ایک یمنی خاندان نے رہائش اور خوراک کے عوض اپنی تین سالہ بچی ایک شخص سے بیاہ دی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق'آکسفام' کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یمن میں غربت اور خوراک کی قلت کا اندازہ لگانے کے لیے یہ لرزہ خیز واقعہ کافی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لڑائی، اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافے، خوراک کی قلت اور بھوک کے خاتمے کے لیے موثراقدامات کے نہ ہونے کے باعث لاکھوں افراد انتہائی کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق تین سالہ بچی کو خوراک رہائش کے بدلے میں شادی کرکے رخصت کرنے کا المناک واقعہہ شمالی گورنری عمران میں پیش آیا۔ یہ علاقہ یمن کے حوثی باغیوں کے زیرتسلط ہے جہاں شہریوں تک خوراک کی فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بھوک اور تنگ دستی کے باعث خاندان نے تین سالہ بچی کو ایک بڑی عمر کے شخص کے ساتھ شادی کرکے رخصت کردیا گیا۔

'آکسفام' کا کہناہے کہ جنگ زدہ شہریوں کے پاس زندگی بچانے کے لیے کوئی اور چارہ کار نہیں بچا۔ لوگ اپنے بچوں سے جان چھڑانے کے لیے مختلف حیلے تلاش کررہے ہیں۔

'آکسفام' کے ڈائریکٹر محسن صدیقی نے ایک بیان میں‌ کہا کہ جنگ کے تسلسل کے باعث لوگوں کے پاس روز مرہ زندگی گذارنے کے لیے وسائل ختم ہوچکے ہیں اور وہ اپنے بچوں کو فروخت کرنے پرمجبور ہیں۔