.

شام میں معدومیت کے خطرے سے دوچار عربی زبان کی تاریخ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی جنگ کے نتیجے میں ہونے والی تباہی لاکھوں شامیوں کی ہلاکت، کروڑوں کی نقل مکانی اور ان کے گھروں اور املاک کی تباہی تک محدود نہیں بلکہ اس نے عربی زبان کی دریافت تاریخ کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اس تاریخ کا انکشاف محققین، مؤرخین اور مسشرقین کی جانب سے پتھروں کے نقوش کے ذریعے سامنے آیا تھا۔ مذکورہ نقوش نے خاص طور پر اسلام کی آمد سے قبل عربی زبان کی پہلی تاریخ کا ایک حصہ نقل کیا۔

یہ جان کر شدید حیرت کا دھچکا لگتا ہے کہ شام کے جنوب اور جنوب مشرق میں جن علاقوں میں ایران کی فورسز اور ملیشیائیں، داعش تنظیم کے جنگجو، ترکی کی فوج کے زیر انتظام فورسز اور جبہۃ تحریر الشام تنظیم کی فورسز لڑائی میں مصروف رہیں وہ علاقے عربی زبان اور عربی تحریر کے بارے میں قدیم ترین نقوش کے حامل تھے۔ طیاروں کی بم باری اور میزائلوں اور بموں کے دھماکوں نے عربی زبان کی تاریخ کا ایک اہم اور نادر حصہ بیان کرنے والے آثار کو مٹا ڈالا۔

عربی زبان میں تحریر قدیم نقوش کی ایک بڑی تعداد کی دریافت جنوبی شام میں ہوئی۔ ان نقوش کو اُن علاقوں کے نام سے موسوم کر دیا گیا جہاں سے یہ دریافت ہوئے۔ مثلا الصفویہ نقوش وہ ہیں جو جنوب مشرقی شام میں واقع صوبے السویداء میں جبل الصفا کے علاقے سے ملے۔

مذکورہ نقوش کی ایسی تاریخی اور تہذیبی خصوصیات ہیں کہ اگر ان میں بعض نقوش کسی دوسرے عرب ملک میں سامنے آئے تو ان کے بارے میں بھی کہا گیا کہ یہ الصفویہ نقوش ہیں۔

سعودی عرب میں کنگ فیصل سینٹر فار اسلامک ریسرچز اینڈ اسٹڈیز نے سعودی عرب کے شمال میں صفوی نقوش کے بارے میں ایک تحقیق شائع کی تھی۔ تحقیق میں ان نقوش کو دمشق کے جنوب مشرق میں واقع جبل الصفا سے منسوب کیا گیا تھا۔

النمارہ کا علاقہ اُس جگہ کا حصہ ہے جہاں داعش تنظیم کے عناصر مئی 2018 میں بشار حکومت کے ساتھ ایک سمجھوتے کے بعد پھیل گئے تھے۔ مذکورہ سمجھوتے کے تحت تنظیم کے عناصر کو دمشق کے جنوب سے منتقل کر کے السویداء کے مشرقی دیہی علاقوں میں پہنچایا گیا۔ النمارہ کا علاقہ السویداء صوبے کے مشرق میں واقع ہے۔ یہاں قدیم زمانے سے عرب قبائل پھیلے ہوئے ہیں۔ السویداء کے مشرق میں داعش کے ایک ہزار کے قریب ارکان کی موجودگی پر شامی حکومتی فوج اور ایرانی اور دیگر ممالک کی ملیشیاؤں نے علاقے میں کئی محاذوں پر جنگ چھیڑ دی۔ اس کے نتیجے میں النمارہ میں اس مقام کی تباہی دیکھنے میں آئی جہاں یہ تاریخی نقوقش دریافت ہوئے تھے۔ ان نقوش میں مشہور عرب شاعر امرؤ القیس کے بطور ایک عرب بادشاہ حالات زندگی بھی بیان ہوئے ہیں۔

النمارہ کا علاقہ مسلسل کئی ماہ تک شدید فضائی بم باری اور میزائل باری کی زد میں رہا۔ اس کے نتیجے میں اُس زمین کو شدید نقصان پہنچا جہاں ماضی میں عربی زبان کی تاریخ کا ایک اہم ترین نقش دریافت ہوا تھا۔ اسکالروں نے اس نقش کے لیے محض چند سینٹی میٹر کی کھدائی پر اکتفا کیا تھا۔

النمارہ کا مذکورہ نقش 328ء کا ہے اور اس کو 1901ء میں دریافت کیا گیا۔ محققین اس نقش کو لغوی اور تحریری زاویوں سے اہم ترین قرار دیتے ہیں۔

زبد کا علاقہ شام کے شمالی صوبے حلب کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ شامی حکومت 2016 میں ایرانی ملیشیاؤں اور روسی طیاروں کی غیر معمولی معاونت کے ذریعے گھمسان کی لڑائی کے بعد اس علاقے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئی۔ اس دوران روسی فضائیہ نے علاقے پر سیکڑوں میزائل داغے۔ اس علاقے میں بھی داعش تنظیم کے عناصر پھیلے ہوئے تھے۔

زبد سے دریافت ہونے والا نقش 512ء کے زمانے کا ہے۔ اس نقش میں "باسم الإله.." کی عبارت موجود ہے۔ تاہم اس کے متن کے ترجمے میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے جیسا کہ عموما قدیم عربی سے متعلق نقوش کا معاملہ رہا ہے۔

حلب کے جنوب مشرق سے ملنے والے نقش کی بھی عربی زبان اور قدیم زبانوں کی تاریخ اور نبطی تاریخ کا مطالعبہ کرنے والوں کے لیے بڑی اہمیت ہے۔

قدیم عربی زبان کے نقوش کے مقامات میں دوما کا علاقہ بھی شامل ہے۔ یہ مقام دارالحکومت دمشق کے مرکز سے 100 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔ یہاں بھی فوجی طیاروں اور میزائلوں کے ذریعے بھرپور بم باری کی گئی۔ اس جگہ پر ہونے والی لڑائی میں داعش، شامی حکومت اور روسی فضائیہ کے علاوہ واشنگٹن کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد نے بھی حصہ لیا۔ ایرانی ملیشیاؤں نے اس کے جنوب مشرقی جانب کنٹرول حاصل کیا تا کہ ایران کے لیے عسکری اور قتصادی سپلائی لائن کو محفوظ بنایا جا سکے۔

اس مقام سے اسیس کا نقش دریافت ہوا تھا جس کا زمانہ 528ء کا ہے۔ نقش کو اسی علاقے کے ایک پہاڑ کے نام سے منسوب کیا گیا۔ جنگ کی تباہ کاریوں نے اس علاقے کو بھی برباد کردیا۔

تاریخ کے قیمتی خزانے رکھنے کے سبب شام کا جنوبی حصہ گزشتہ صدی کے اوائل سے ہی علماء لغت اور مستشرقین کی منزل رہا ہے۔ جو کچھ النمارہ کے نقش کے ساتھ ہوا وہ ہی کچھ نقش حران کی اراضی کے ساتھ بھی پیش آیا۔ حران جنوبی شام کے علاقے اللجاہ میں واقع ہے۔ اس میں درعا اور السویداء کے علاقے بھی شامل ہیں۔ اللجاہ کو کچھ عرصے کے لیے شدید بم باری اور میزائلوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اس دوران وسیع تباہی پھیلی اور بشار حکومت کے مخالف ہزاروں شامی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ حران کے نقش کا زمانہ 568ء ہے۔

عربی زبان کی تاریخ کا مطالعہ کرنے والوں کے نزدیک شام کی سرزمین عربی زبان کی اور نبطی تاریخ کے حوالے سے اہم مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔

بعض ماہرین کے نزدیک ان نقوش کے ثقافتی اور سماجی دونوں پہلو ہیں۔ تاہم بشار حکومت اور ایرانی ملیشیاؤں کی جانب سے 2011 سے مسلط جنگ کے سبب شام میں عربی زبان کی تاریخ "معدومی" کے خطرے سے دوچار ہو چکی ہے۔