.

الباغوز میں 'داعشی' جنگجوئوں نے عورتوں کا بھیس بدل لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے دریائے فرات کے مشرقی کنارے کے علقے الباغوز میں اتوار کو داعش اور کرد فورسز کے درمیان گھمسان کی لڑائی کے بعد خاموشی دیکھی جا رہی ہے۔ دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ داعشی جنگجو سرنگوں اور زمین دوز بنکروں سے خواتین کا بھیس بدل کر نکل رہے ہیں۔

العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق اتوار کی صبح کرد ڈیموکریٹک فورسز اور عالمی اتحادی فوج نے الباغوز میں 'داعش' کے خلاف تباہ کن حملے کیے تاہم شام کو دونوں طرف سے فائرنگ رک گئی تھی۔

ذرائع کاکہناہے کہ داعشی جنگجوئوں کو سرنگوں سے خواتین کا بھیس بدل کر باہر نکلتے دیکھا گیا ہے۔ داعشی جنگجو'الباغوز' کیمپ میں بھی گھومتے پھرتے نظرآئے ہیں۔ کرد فورسز کے مطابق داعشی جنگجوئوں‌کی بڑی تعداد اب بھی اپنے آخری گڑھ الباغوز میں سرنگوں میں‌ موجود ہے۔ تاہم داعشی شدت پسند اب ہرطرف سے محاصرے میں ہیں۔ اتوار کو علی الصباح عالمی اتحادی فوج نے الباغوز میں 'داعش' کے ٹھکانوں پر شدید بمباری کی۔ اس دوران کرد فورسز نے بھی توپ خانے سے شدید گولہ باری کی جس کے بعد کئی گھنٹے تک خاموشی رہی۔

تازہ کشیدگی کےدوران الباغوز سے شہریوں کی نقل مکانی بند ہوگئی ہے۔ کرد حکام کا کہنا ہے کہ داعشی جنگجوئوں ںے شہریوں کو انسانی ڈھال بنا رکھا ہے اور وہ خواتین اور بچوں کو نقل مکانی کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔

ادھر شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والےا دارے'آبزر ویٹری' کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ داعش کے جنگجوئوں کو الباغوز میں سرنگوں اور زمین دوز بنکروں سے خواتین کے لباس میں باہر نکلتے دیکھا گیا ہے۔

دوسری جانب سیرین ڈیموکریٹک فورسز کےمطابق دو ماہ سے الباغوز میں جاری کشیدگی کے دوران ان تک 60 ہزار شہری نقل مکانی کرچکے ہیں۔