ایران میں امریکی فوجی کو سپریم لیڈر کی توہین پر 10 سال قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کی ایک انقلاب عدالت نے امریکی نیوی کے ایک اہلکار کو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نجی نوعیت کی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرکے ان کی توہین کا مرتکب قرار دیاتے ہوئے اسے 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

خبر رساں ادارے'رائیٹرز' کے مطابق سابق امریکی فوجی مائیکل وائیٹ کے خاندان کے وکیل نے ایک بیان میں کہا کہ ان کے موکل پرعاید کردہ الزام مبہم اور مشکوک ہے۔ سابق امریکی فوجی کے خلاف عدالت میں جس الزام کے تحت مقدمہ چلایا گیا وہ سپریم لیڈر کی ایک تصویر شائع کرنا تھا جس میں سپریم لیڈر کو ایک خاتون کے قریب بیٹھے دیکھا جاسکتا ہے۔

وکیل مارک زیڈ نے کہا کہ ان کے موکل 46 سالہ مائیکل وائیٹ کو ایرانی عدالت کی طرف سے دو الگ الگ سماعتوں چھ اور نو مارچ کو سزا سنائی گئی تاہم اس کی مزید تفصیلات ایرانی میڈیا پر بھی شائع نہیں ہوئیں۔

خیال رہے کہ مائیکل وائیٹ کو گذشتہ برس جولائی میں ایران کے شہر مشہد سے گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ اپنی گرل فرینڈ سے ملنے مشہد آئے تھے۔

امریکی ریاست کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے سابق امریکی سیلر نے 13 سال تک فوج میں‌خدمات انجام دی تھیں۔
گذشتہ برس انسانی حقوق کی عالمی تننظیم'ہیومن رائیٹس واچ' نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا تھا کہ ایران میں 2014ء کے بعد دوہری شہریت رکھنے والے14 شہریوں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف دشمن ممالک سے تعاون کے الزامات کے تحت مقدمات چلائے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں